سرکار کے خفیہ منصوبے: ملازمین کے مستقبل پر حملہ، ایم پی ایس سی کی خودمختاری خطرے میں

ممبئی: سرکار کی جانب سے پس پردہ نجکاری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ اپنے پسندیدہ ٹھیکیداروں کے لیے ملازمتوں پر شب خون مارا جا رہا ہے۔ این سی پی-ایس پی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے ریاستی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کی ترقی کے محکمے کی جانب سے جاری کردہ ایک حکومتی آرڈر میں 2063 اسامیوں کو ٹھیکے پر بھرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے 1145 اسامیوں کو پونے کی بریکس انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جینت پاٹل نے اس تعلق سے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کیا ہے۔ اس میں انہوں نے کہا کہ ہے بریکس انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی اس سے قبل میڈیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی ٹھیکے پر بھرتی میں بھی شامل رہی ہے، جس میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔ جینت پاٹل نے سوال اٹھایا کہ یہ کمپنی کس کی ہے؟ اور اس ٹھیکیدار کو کس کی سرپرستی حاصل ہے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے ان اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ حکومت خفیہ طور پر نجکاری کو فروغ دے رہی ہے اور ریاست میں بے روزگاری میں اضافہ کرتے ہوئےملازمتوں کو اپنے پسندیدہ ٹھیکیداروں کے لیے قربان کر رہی ہے۔

جینت پاٹل نے ایکس پر ایک اور پوسٹ کیا ہے، جس میں انہوں نے ایم پی ایس سی کی خودمختاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ اخباری رپورٹس کے مطابق حکومتی مداخلت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ایم پی ایس سی کی خودمختاری خطرے میں پڑ گئی ہے۔ جینت پاٹل نے کہا کہ ایم پی ایس سی کے امتحانات میں پہلے ہی بدانتظامی ہو رہی ہے اور اب سرکاری افسران اور ملازمین کی جانب سے ایم پی ایس سی میں حکومتی مداخلت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کی جانب سے بڑھتی ہوئی مداخلت کے نتیجے میں ایم پی ایس سی میں بھی بدعنوانی اور پیپر لیک جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایم پی ایس سی کی خودمختاری کو برقرار رکھنا ضروری ہے، تاکہ وہ مستقبل کے طلبہ کے حقوق کا تحفظ کر سکے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading