انتخابی سیاست میں پیسے کی بولی جمہوریت کے لیے خطرہ: شرد پوار

مہا یوتی پارٹیوں میں فنڈ کی دوڑ افسوس ناک، شدید بارش و سیلاب سے کسانوں کو زبردست نقصان، سرکاری مدد ناکافی

بارامتی: راشٹروادی کانگریس شرد چندر پوار کے قومی صدر شرد پوار نے بارامتی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتخابی سیاست میں پیسے اور فنڈ کی بڑھتی بولی پر شدید تشویش ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انتخابی مہم اب کام، کارکردگی یا عوامی خدمت کی بنیاد پر نہیں چل رہی بلکہ پیسے کی طاقت پر چلائی جا رہی ہے، جو جمہوری قدروں کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہا یوتی کے تینوں اتحادیوں کے درمیان فنڈ کے وعدوں اور مالی دوڑ نے انتخابات کا مزاج ہی بدل دیا ہے اور اگر انتخاب جیتنے کا پیمانہ صرف پیسہ ہو جائے تو اس پر بات کرنا ہی مناسب نہیں رہتا۔

شرد پوار نے کہا کہ مقامی خود مختار اداروں کے انتخابات میں اس مرتبہ غیر معمولی گروہ بندی نظر آ رہی ہے، جہاں مختلف گروپ ایک دوسرے کے خلاف فنڈ اور پیسے کی بولی لگا کر سیاسی طاقت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ان کے مطابق پہلی مرتبہ اس قدر کھلی مالی مداخلت دکھائی دے رہی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ انتخابی یکجہتی کمزور پڑ چکی ہے اور مختلف پارٹیوں کے اندرونی گروہ دوسری پارٹیوں کے ساتھ بھی جا مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں کبھی پیسے کے زور پر انتخاب جیتنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی آئندہ ایسی سیاست کا حصہ بنیں گے۔ آخرکار فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے اور بلدیاتی انتخابات میں ووٹر صحیح سمت طے کریں گے۔

کسانوں کو درپیش سنگین مسائل کا ذکر کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ شدید بارش اور سیلاب نے ریاست کے متعدد اضلاع میں کسانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ کہیں زمینیں بہہ گئی ہیں تو کہیں مشینری اور بنیادی زرعی وسائل برباد ہو گئے ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اُس فیصلے پر بھی سوال اٹھایا جس کے تحت قرض وصولی ایک سال کے لیے روک دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ وقتی ریلیف تو فراہم کر سکتا ہے مگر کسانوں کے بھاری مالی نقصان کے مقابلے میں یہ بالکل ناکافی ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ نقصان کے مطابق براہِ راست رقم دیتی، سود میں چھوٹ فراہم کرتی اور قسطوں کی بہتر سہولت دیتی تاکہ کسانوں پر سے بوجھ کم ہو سکتا۔ لیکن فی الحال جو سرکاری مدد دی گئی ہے، وہ کافی نہیں ہے۔ ریزرویشن کے سوال پر انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اس بار 50 فیصد کی حد کے معاملے میں سخت نقطۂ نظر رکھتا ہوا نظر آ رہا ہے، اس لیے عدالت کیا فیصلہ دے گی، اس بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں۔ عدالت کا فیصلہ آئندہ دو تین دن میں متوقع ہے، اس لیے اس وقت تفصیل سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔

مہاراشٹر میں قانون کا رعب ماند پڑ گیا، خواتین پر جرائم اور سماجی بدامنی میں تشویشناک اضافہ: سپریا سولے

ریاستی حکومت کی کمزوری پر سوال، جرائم، بدعنوانی اور خودکشی کے معاملوں میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ

نئی دہلی: راشٹروادی کانگریس شرد چندر پوار کی قومی کارگزار صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سپریا سولے نے مہاراشٹر میں بڑھتے سماجی جرائم، کمزور ہوتے لا اینڈ آرڈر و انتظامی بے حسی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر بری طرح متاثرا ہوا ہے۔ کویتا گینگ کی بڑھتی سرگرمیوں، بار بار ہونے والے حادثات، پولیس اہلکاروں پر حملوں، خواتین پر بڑھتے مظالم اور جہیز کے معاملات میں ہو رہی ہلاکتوں نے ریاست میں پولیس اور قانون کی موجودگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

سپریا سولے نے کہا کہ مہاراشٹر میں گزشتہ کچھ عرصے سے خواتین پر حملوں و زیادتی کے واقعات اور جہیز کے سبب ہورہی اموات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا حکومت اور پولیس کا خوف ختم ہو گیا ہے؟ کیا مہاراشٹر سماجی معاملات میں پیچھے جا رہا ہے؟ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جدید کا نعرہ لگانے سے سماج جدید نہیں ہوتا، سماجی ذہنیت میں بھی اصلاح ضروری ہے اور حکومت کو فوری ذمہ داری نبھانا ہو گی۔

بدعنوانی کے معاملات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سولے نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈر کے گھر میں پیسوں سے بھرا بیگ کیسے ملا؟ یہ رقم آئی کہاں سے؟ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایکناتھ شندے کابینہ کے سینئر وزیر کا ویڈیو بھی وائرل ہوا تھا، جس میں بھاری رقم دکھائی دے رہی تھی۔ اتنا پیسہ آتا کہاں سے ہے؟ انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ وہ یہ معاملہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے سامنے رکھیں گی، مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ایسے لوگوں کے گھروں پر کارروائی کریں جو کالا دھن چھپا کر رکھتے ہیں۔

رام کھاڑے پر ہوئے جان لیوا حملے کے تعلق سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ غیر ذمہ دارانہ الزام تراشی میں یقین نہیں رکھتیں، مگر وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کو سیاست سے بالاتر ہوکر شفاف تفتیش کرانی چاہیے، تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہ سکے۔ سپریا سولے نے کہا کہ پنکجا منڈے کے پی اے کی اہلیہ کی خودکشی اور ناسک میں خاتون کی خودکشی و ہگونے معاملے کی تفتیش شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا صوبے میں ہر جگہ پولیس لڑکیوں کو انصاف دلا رہی ہے؟ لڑکیوں کو تعلیم میں ترجیح دی جا رہی ہے، مگر سماج میں بڑھتے سانحات پر حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔

NCP-SP Urdu News 27 Nov. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading