دھاراوی کولی واڑہ کی حد بندی طے ہونے تک ڈی آر پی کا سروے روکا جائے: ورشا گائیکواڑ

اڈانی کے فائدے کے لیے بھومی پُتر کے حقوق پر بلڈوزر چلانے کی کوشش، ممبئی کے اصل باشندوں کو جھوپڑ پٹی والا کہنے پر کانگریس برہم

ممبئی: ممبئی کانگریس کی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ دھاراوی کولی واڑہ کو سرکاری طور پر منصوبے میں شامل نہ کیے جانے کے باوجود اس علاقے کی بیرونی حد کو دانستہ غلط دکھا کر اڈانی گروپ کے مفاد میں غیرقانونی سروے کرایا جارہا ہے، جو ممبئی کے ’بھومی پُتروں‘ کے حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک دھاراوی کولی واڑہ کی بیرونی حد اور اس کی توسیعی زمین باضابطہ طے نہ کی جائے، تب تک ڈی آر پی کے تحت کوئی بھی سروے فوری طور پر روکا جائے۔

ورشا گائیکواڑ نے یہ بات اُس وقت کہی جب وہ دھاراوی کولی جماعت ٹرسٹ کی جانب سے نکالے گئے ’آکروش مارچ‘ میں شریک تھیں، جہاں مظاہرین نے اڈانی سرکار کے خلاف بطور احتجاج کالے جھنڈے لہرائے۔ گائیکواڑ نے کہا کہ ممبئی کے گاؤں ٹھانے اور کولی واڑے صدیوں پر محیط تہذیبی ورثہ ہیں، لیکن حکومت اپنے مخصوص بلڈر و کارپوریٹ حلقوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ان آبادیوں کو سلم قرار دے کر اصل باشندوں کی زمین ہڑپنے کا راستہ صاف کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی الگ تھلگ کارروائی نہیں، بلکہ کچھ ماہ پہلے کرلا کے کرسچن ولیج اور باندرہ کے چنبئی گاؤں ٹھانے کو بھی سلم قرار دے کر سروے نوٹس جاری کیے گئے تھے، لیکن مقامی شہریوں اور کانگریس کی سخت مزاحمت کے بعد حکومت کو قدم پیچھے کھینچنے پڑے۔

گائیکواڑ نے کہا کہ اب سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بار پھر شہر کی کچی بستیوں کو غیرقانونی طور پر جھوپڑ پٹی علاقہ ظاہر کرکے سروے کی کارروائی آگے بڑھائی جارہی ہے، حالانکہ سرکار کا واضح حکم نامہ موجود ہے کہ ممبئی کے گاؤں ٹھانے اور کولی واڑے سلم نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ممبئی کے اصل باشندوں کو جھوپڑ پٹی والا کہنے کا حق حکومت کو کس نے دیا؟ کانگریس برسوں سے اس بات کے لیے کوشش کر رہی ہے کہ شہر کے تمام گاؤں ٹھانوں اور کولی واڑوں کی سرکاری حد بندی کر کے انہیں ممبئی کے ترقیاتی نقشے میں باقاعدہ شامل کیا جائے، تاکہ زمین، شناخت اور مستقبل کے حقوق محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھومی پُتروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ جدوجہد اب مزید سختی کے ساتھ جاری رہے گی۔

MRCC Urdu News 27 Nov. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading