دو دن کے اندر سنجے شیرساٹ کا استعفیٰ لیں: روہت پوار کا وزیراعلیٰ سے مطالبہ

بیولکر زمین گھوٹالے میں پیش کیے بیگ بھر کر ثبوت

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس شردچندر پوار کے جنرل سکریٹری اور رکن اسمبلی روہت پوار نے الزام لگایا ہے کہ سماجی انصاف کے وزیر سنجے شیرساٹ نے نوی ممبئی میں بیولکر خاندان کو غیر قانونی طریقے سے زمین الاٹ کر کے ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا ہے۔ اس معاملے پر آج روہت پوار نے پریس کانفرنس کی اور بیگ بھر کر ثبوت پیش کیے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس سے اس معاملے میں فوری نوٹس لینے کی اپیل کی اور سنجے شیرساٹ کے خلاف فوری کارروائی کر کے ان کا استعفیٰ لینے کا مطالبہ کیا۔

روہت پوار نے پریس کانفرنس میں بیولکر خاندان کا 1993 کا درخواست فارم، سڈکو کی جانب سے مسترد کیے گئے چار پرانے درخواست نامے، قانون و انصاف محکمہ کی رپورٹ، یکم مارچ 2024 کو شہری ترقیات محکمہ کی طرف سے سڈکو کو دیا گیا خط، سڈکو کی قرارداد اور سپریم کورٹ میں داخل سڈکو کا حلف نامہ میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیولکر خاندان نے 28 جولائی 1993 کو ساڑھے بارہ فیصد زمین کے لیے درخواست دی تھی۔ اس درخواست میں انہوں نے لکھا تھا کہ اگر ہم غلط ثابت ہوئے تو پوری زمین سڈکو کو واپس کریں گے۔ روہت پوار کے مطابق، تکنیکی طور پر بیولکر خاندان غلط ہی ثابت ہوا ہے۔ سڈکو نے بھی ان کا دعویٰ چار مرتبہ رد کیا تھا۔ پہلی بار 18 اپریل 1994 کو ان کی درخواست خارج ہوئی، اس کے بعد 1995 اور 2010 میں بھی اسی بنیاد پر سڈکو نے ان کا دعویٰ مسترد کر دیا۔

روہت پوار نے مزید کہا کہ قانون و انصاف محکمہ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بیولکر کو اجازت دی گئی ہے، لیکن یہ بات غلط تھی۔ خود سڈکو نے بعد میں اس رپورٹ کو غلط قرار دے کر منفی مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سنجے شیرساٹ نے سڈکو کے چیئرمین رہتے ہوئے ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا، جس کے ثبوت ہم نے پیش کیے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فڈنویس نے ہم سے ثبوت مانگے تھے، اس لیے ہم نے 12 ہزار صفحات پر مشتمل بیگ بھر ثبوت ان کے حوالے کرنے کے لیے لائے ہیں۔ یہ ٹرک یا گاڑی بھر ثبوت نہیں ہیں بلکہ بیگ بھر ہیں، جس میں ایک پین ڈرائیو بھی شامل ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعلیٰ یہ ثبوت دیکھیں گے اور اس پر کیا قدم اٹھائیں گے؟ یہ عوام دیکھنا چاہتی ہے۔

روہت پوار نے مزید کہا کہ جب سپریم کورٹ میں یہ معاملہ زیر سماعت تھا، تو بیولکر خاندان کو زمین کیسے دی گئی؟ کیا یہ عدالت کے حکم کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ پانچ ہزار کروڑ روپے کی جو زمین بیولکر کو دی گئی تھی، وہ انہوں نے بلڈروں کو بیچ دی، اب یہ زمین تنازعات میں پھنس گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ آگے کیا ہوگا؟ کیا حکومت یہ زمین واپس لے گی؟ انہوں نے کہا کہ سنجے شیرساٹ کو فوراً عہدے سے ہٹایا جائے، کیونکہ وہ کھلے عام بے لگام ہو گئے ہیں۔ اگر حکومت کو پیسوں کی ضرورت ہے تو عوام سے نہیں، حکومت سے لیں، لیکن ایسے بدعنوان وزیر کو کرسی پر مت بٹھائیں۔ پوار نے مطالبہ کیا کہ جب تک اس معاملے کی پوری چھان بین نہیں ہوتی، 61 ہزار مربع میٹر کے پلاٹ کی الاٹمنٹ فوراً روکی جائے اور 8 ہزار مربع میٹر کا پلاٹ جو ایک پرائیویٹ شخص کو دیا گیا ہے، وہ بھی واپس لیا جائے۔ روہت پوار نے دو ٹوک کہا کہ سنجے شیرساٹ کا استعفیٰ دو دن کے اندر لے لیا جانا چاہیے اور گنپتی تہوار تک ہم خاموش رہیں گے، اس کے بعد ہماری اگلی کارروائی ہوگی۔

NCP-SP Urdu News1. 25 August 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading