ریاست میں طوفانی بارش سے کسان تباہ، فصلیں برباد: شرد پوار
فوری طور پر کسانوں کو ریلیف دیا جائے اور نقصانات کا تخمینہ لگا کر عملی مدد فراہم کی جائے
پونے: ریاست کے مختلف اضلاع میں گزشتہ چند دنوں سے جاری طوفانی بارش نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، مویشی ہلاک ہوئے اور دیہی زندگی پر گہرا اثر پڑا ہے۔ متعدد مقامات پر سویا بین، کپاس اور دیگر خریف کی فصلیں زمین بوس ہوچکی ہیں، جس کے باعث کسانوں کے گھروں پر معاشی بحران ٹوٹ پڑا ہے۔ اس سنگین صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس شرد چندر پوار پارٹی کے قومی صدر شرد پوار نے کہا کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ فوری طور پر کسانوں کو ریلیف دیا جائے اور نقصانات کا درست تخمینہ لگا کر عملی مدد فراہم کی جائے۔
پونے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ مراٹھواڑہ اور ودربھ جیسے عموماً کم بارش والے علاقوں میں اس بار ریکارڈ توڑ بارش نے صورتحال کو نہایت ابتر کر دیا ہے۔ سویا بین جیسی اہم فصل مسلسل بارش اور کھیتوں میں پانی بھر جانے کے سبب بڑی تعداد میں سڑ گئی ہے۔ کسانوں کے ہاتھ کچھ بھی پیداوار نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قحط کی صورتحال دیکھی ہے لیکن اس پیمانے کی طوفانی بارش اور اس سے پیدا ہونے والی تباہی کبھی نہیں دیکھی۔ اس سے نہ صرف فصلوں کو نقصان ہوا بلکہ کسان خاندانوں کی معیشت پوری طرح درہم برہم ہوگئی ہے۔
شرد پوار نے کہا کہ سولاپور، لاتور، دھاراشیو، جالنہ، چھترپتی سنبھاجی نگر، پربھنی اور نگر جیسے اضلاع میں بھی بارش نے تباہی مچائی ہے۔ ان علاقوں کے کسانوں کو بے مثال نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں ریاستی اور مرکزی حکومت پر لازم ہے کہ فوری طور پر نقصان کا جائزہ لے اور معاوضہ ادا کرے۔ ان کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے قدرتی آفات کے لیے امدادی منصوبے موجود ہیں جنہیں بروقت نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نقصان صرف فصلوں کا نہیں ہے بلکہ زمین اور بنیادی ڈھانچے کا بھی ہے۔ اگر زمین کی اوپری زرخیز مٹی بہہ گئی تو پیداوار کے امکانات مستقل طور پر ختم ہو جائیں گے۔ اس لیے صرف فصلوں کے نقصان پر ہی نہیں بلکہ زمین، پگڈنڈی راستوں اور ڈھانچوں کی مرمت پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ کئی مقامات سے مویشیوں کے بہہ جانے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں جنہیں بھی حساب میں لیا جانا چاہیے۔
شرد پوار نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فصلوں کے معائنے کے دوران کسانوں کو اعتماد میں لیا جائے اور حقیقت پر مبنی پنچنامہ کیا جائے تاکہ کسانوں کو بروقت اور معقول معاوضہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو صرف فوری نہیں بلکہ مستقل نوعیت کی امداد دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دوبارہ کھڑا ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ عوامی نمائندے زمینی سطح پر حالات کا جائزہ لے رہے ہیں، یہ خوش آئند بات ہے لیکن اس کے بعد فوری ریلیف دینا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسانوں کو دوبارہ کھڑا کرنے پر ریاست کو خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات کے اندازے اس بار بالکل درست ثابت ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ مئی میں بھی غیر معمولی بارش ریکارڈ کی گئی، جو شاذونادر ہی ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان پیش گوئیوں کو سنجیدگی سے لے کر حالات کا بروقت سامنا کرے۔
شرد پوار نے واضح کیا کہ صرف پنچنامہ کافی نہیں ہے، بلکہ کسانوں کو اعتماد میں لے کر فصل، زمین، راستے اور مویشیوں کے نقصان کا مکمل حساب کیا جائے اور انہیں فوری طور پر اور مستقل نوعیت کی مدد فراہم کی جائے۔ ان کے مطابق ریاستی اور مرکزی حکومت کو اس قدرتی آفت کے تناظر میں فوری اور ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے تاکہ تباہ حال کسانوں کو دوبارہ سنبھالا جا سکے۔
NCP-SP Urdu News 23 sep 25.docx