ریاست میں گیلا قحط کا اعلان کیا جائے اور فوری طور پر فی ہیکٹر ۵۰ ہزار روپے کی مدد دی جائے: ہرش وردھن سپکال
کسان شدید بحران میں ہیں اور حکومت صرف کھوکھلی باتیں کر رہی ہے، پنچنامے اور سروے چھوڑیں اور فوری مدد فراہم کریں۔
ڈومبیولی میں 72 سالہ دلت کانگریس کے کارکن کو بی جے پی کے غنڈوں نے ذات پات کی گالی گلوچ اور انتہائی ذلت آمیز سلوک، غنڈوں کو قابو میں لاؤ ورنہ سبق سکھائیں گے
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے آج مہایوتی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال ریاست میں اوسط سے دو گنی اور بعض جگہوں پر تین گنی بارش ہوئی ہے جس کے نتیجے میں 36 اضلاع اور 358 تعلقوں میں سے تقریباً 30 اضلاع اور 300 تعلقے شدید بارش اور سیلاب کی زد میں آئے ہیں۔ ریاست بھر میں 143 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ زرعی زمین تباہ ہو چکی ہے۔ بارش کا سلسلہ لگاتار جاری ہے اور کسان سخت پریشانی میں مبتلا ہیں، لیکن حکومت ان کی خبر نہیں لے رہی۔ وزرا نے اب تک کسی قسم کا دورہ تک نہیں کیا اور کابینہ کی میٹنگوں میں صرف کھوکھلی باتیں ہو رہی ہیں۔ سپکال نے مطالبہ کیا کہ حکومت فی ہیکٹر پچاس ہزار روپے فوری امداد دے اور جن کی زمین سیلاب سے خراب ہو گئی ہے انہیں فی ہیکٹر پانچ لاکھ روپے دیئے جائیں۔
تلک بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مسلسل بارش کے سبب مرٹھواڑہ، ودربھ، سولاپور اور احمد نگر کے اضلاع میں زبردست نقصان ہوا ہے۔ مرٹھواڑہ کی حالت سب سے ابتر ہے۔ کانگریس گزشتہ دو ماہ سے کسانوں کو امداد دینے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے لیکن کسان مخالف مہایوتی حکومت محض جھوٹی تسلیاں دیتی رہی۔ کھیت تباہ ہو گئے، زمینیں بہہ گئیں، مویشی اور گھریلو سامان برباد ہو گیا لیکن یہ اندھی، بہری اور گونگی حکومت کسانوں کے درد کو محسوس کرنے کے بجائے صرف خانہ پری کر رہی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ انتخابی مہم میں کسانوں کو قرض معافی دینے کا جو وعدہ کیا گیا تھا، اس کا کیا ہوا؟
سپکال نے کہا کہ کانگریس کی حکومت کے دور میں جب کبھی فصلیں بیماری یا آفات سے برباد ہوتیں تو فوری مدد دی جاتی تھی لیکن بی جے پی اتحادی حکومت کاغذی کارروائیوں، ضوابط اور شرائط میں الجھ کر کسانوں کو مصیبت میں چھوڑ دیتی ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر نقصان کے بعد بھی حکومت پنچنامے کروا رہی ہے، جبکہ ضرورت فوری امداد کی ہے۔ اس دوران کانگریس نے اپنی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جو متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہی ہیں۔ چھترپتی سنبھاجی نگر اور جالنہ میں رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کلیان کالے، سابق وزیر انیل پاٹل، راجندر راکھ اور دیگر رہنما جائزہ لیں گے۔ اسی طرح لاتور، بیڑ اور دھارا شیو میں ڈاکٹر شیو اجی راؤ کالگے اور دیگر لیڈر، ناندیڑ، پربھنی اور ہنگولی میں رکن پارلیمنٹ رویندر چوہان اور دیگر لیڈران، امراؤتی میں مانک راؤ ٹھاکرے اور ان کی ٹیم، ناگپور میں نامدیَو کرسن، پرشانت پڑولے، شیام کمار بروے اور دیگر، شمالی مہاراشٹر میں رکن پارلیمنٹ شوبھا بچھاؤ، گووال پاڈوی اور ان کی ٹیم جبکہ کولہاپور ضلع میں پرنیتی شندے اور دیگر رہنما متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔
ڈومبیولی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ یہاں 72 سالہ دلت کانگریس کارکن کو بی جے پی کے غنڈوں نے انتہائی ذلت آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے ذات پات کی گالیاں دیں اور دھمکیاں دیں۔ یہ بزرگ کارکن ڈاکٹر کے پاس گئے تھے کہ انہیں باہر بلا کر گالی گلوچ کی گئی اور کہا گیا کہ تمہاری ذات کے لوگ حد سے بڑھ گئے ہیں۔ کانگریس نے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ سپکال نے کہا کہ بی جے پی ایسے بدمعاش اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کو پناہ دیتی ہے جن پر قتل اور ریپ جیسے بیس سے زیادہ مقدمات درج ہیں۔ اگر بی جے پی نے ان غنڈوں کو قابو میں نہ کیا تو کانگریس انہیں سبق سکھائے گی۔ اس پریس کانفرنس میں کانگریس کے سینئر ترجمان اننت گاڈگل اور خزانچی ابھیج چھاجیڈ بھی موجود تھے۔