نجی کوچنگ اداروں کے غیرقانونی انٹیگریٹڈ کورسز پر پابندی کا فیصلہ
نیشنلسٹ یوتھ کانگریس کی مداخلت رنگ لائی، وزیر تعلیم نے اسمبلی میں قانون سازی کا اعلان کیا
ممبئی: 17 جولائی 2025
ریاست مہاراشٹر میں نجی کوچنگ کلاسز کے ذریعے چلائے جا رہے غیرقانونی انٹیگریٹڈ کورسز کے خلاف نیشنلسٹ یوتھ کانگریس (شردچندرا پوار) کی جانب سے کی گئی جدوجہد کو بالآخر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اسکولی تعلیم کے وزیر دادا بھوسے نے مہاراشٹر اسمبلی میں اعلان کیا ہے کہ ریاستی حکومت نجی ٹیوشن کلاسز کو ضابطے میں لانے کے لیے نیا قانون نافذ کرنے کے عمل میں ہے، اور بہت جلد یہ قانون ریاست میں رائج کر دیا جائے گا۔ یہ پیش رفت نیشنلسٹ یوتھ کانگریس ممبئی کے صدر ایڈووکیٹ امول ماتیلے کی جانب سے وزیر تعلیم سے 3 جولائی 2025 کو کی گئی ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے ایک مفصل میمورنڈم پیش کیا تھا۔ اس میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ نجی کوچنگ اداروں کے ذریعے کالجوں اور اسکولوں کے ساتھ چلائے جا رہے غیرقانونی انٹیگریٹڈ کورسز پر فوری پابندی عائد کی جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی سمیت ریاست بھر میں ان غیرقانونی کورسز کی بھرمار ہے جن کی وجہ سے طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو نقصان پہنچ رہا ہے، معیارِ تعلیم گرتا جا رہا ہے اور والدین کا نظام تعلیم پر سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم محض منافع کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری ہے اور اسی اصول کو بنیاد بنا کر ہم نے یہ تحریک شروع کی۔ نیشنلسٹ یوتھ کانگریس نے اپنے میمورنڈم میں مطالبہ کیا تھا کہ ایسے تمام انٹیگریٹڈ کورسز پر فوری جانچ کی جائے، حاضری میں جعلسازی کرنے والے تعلیمی اداروں پر تادیبی کارروائی کی جائے، اسکولی تعلیم ڈائریکٹوریٹ ان تمام کورسز پر فوری پابندی عائد کرے، اور ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی جائے جو اس موضوع پر پالیسی سازی اور قانون سازی کی سفارشات پیش کرے۔
اسمبلی میں وزیر تعلیم دادا بھوسے نے واضح طور پر اعلان کیا کہ حکومت نجی کوچنگ کلاسز کے غیرقانونی کاروبار کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرے گی اور اس ضمن میں ایک جامع قانون تیار کیا جا رہا ہے جسے جلد نافذ کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت اس مسئلے کی مکمل جانچ کرے گی اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ سیاسی مبصرین اور سماجی حلقے اس فیصلے کو نیشنلسٹ یوتھ کانگریس کی کامیاب عوامی مہم اور طلبہ کے بہتر مستقبل کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف تعلیمی نظام میں شفافیت کی طرف اشارہ کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ نوجوان قیادت کس طرح سنجیدہ عوامی مسائل کو حکومت کی توجہ میں لا کر نتیجہ خیز تبدیلیاں لا سکتی ہے۔
NCP-SP Urdu News 17 July 25.docx
