کیا اب بھی ریاستی حکومت آبی قحط سالی کا اعلان نہیں کرے گی؟: ششی کانت شندے

کسانوں کے مسئلے پر فوری طور پر خصوصی اجلاس بلایا جائے ورنہ نیشنلسٹ کانگریس شرد پوار پارٹی کی جانب سے ریاست بھر میں شدید احتجاج کیا جائے گا

ممبئی: کسانوں کے آنسو اور ان کی کربناک حالت دیکھ کر سخت دکھ ہوتا ہے، لیکن ریاستی حکومت کو اب تک کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ پچھلے دو سے تین دنوں سے ریاست میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے جس سے فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس شرد پوار پارٹی کے ریاستی صدر ششی کانت شندے نے سوال کیا ہے کہ حکومت نے اب تک کسانوں کے لیے کسی فوری راحتی پیکیج کا اعلان کیوں نہیں کیا، کیا اب بھی ریاستی حکومت آبی قحط سالی کا اعلان نہیں کرے گی؟

این سی پی-ایس پی کے ریاستی صدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مراٹھواڑہ، ودربھ، مغربی مہاراشٹر اور کوکن کے کئی اضلاع میں بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ کسانوں نے بڑی محنت اور امید سے بیج ڈالا تھا اور فصل اچھی طرح اُگ آئی تھی، لیکن لگاتار بارش نے کھڑی فصلوں کو پوری طرح پانی میں ڈبو دیا اور کسانوں کی محنت اکارت ہوگئی ہے۔ ہاتھ آئی فصل بھی ضائع ہوگئی ہے جس کے بعد کسان اب اس مخمصے میں ہیں کہ آئندہ کاشت کیسے کریں اور گھر کا گزر بسر کیسے چلائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ بارشوں کے دوران بھی حکومت نے محض پنچنامے کرنے کی ہدایات دیں لیکن پنچنامے مکمل ہونے کے بعد بھی کسانوں کو عملی طور پر کوئی خاطر خواہ مالی مدد نہیں ملی۔ یہ صورت حال کسانوں کی مزید بربادی کی وجہ بن رہی ہے۔ اوپر سے پری پیڈ میٹر اور سولر میٹر کی جبری تنصیب نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ فوراً دو دن کا خصوصی اجلاس بلایا جائے ورنہ این سی پی- ایس پی کی جانب سے ریاست بھر میں حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا جائے گا۔

ششی کانت شندے نے کہا کہ گزشتہ دو تین دنوں میں مرٹھواڑہ، مغربی مہاراشٹر اور ودربھ کے کئی اضلاع میں بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ کسانوں کو بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کسانوں کے آنسو اور دکھ دیکھ کر دل کٹ جاتا ہے، مگر حکومت کو اب بھی کچھ احساس نہیں ہوا۔ کسانوں کو مکمل طور پر بے سہارا چھوڑ دیا گیا ہے۔ کوکن میں دھان، مرٹھواڑہ میں سویا بین، ودربھ میں سویا بین، کپاس، جوار اور دھان جیسی فصلیں بارش میں برباد ہو گئیں۔ رتناگیری، سندھدرگ، کولہاپور، سولاپور، ستارا، سانگلی، لاتور، عثمان آباد، بیڑ، جالنہ اور ودربھ کے دیگر اضلاع بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اورنگ آباد، لاتور، عثمان آباد، پربھنی، جلنا اور ناندیڑ میں سویا بین کی فصلیں گلنے لگی ہیں۔ کئی تعلقے مکمل طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔ اس لیے اب تو حکومت کو جاگنا ہی پڑے گا اور کسانوں کے لیے فوری امداد کا اعلان کرتے ہوئے ریاست میں آبی قحط سالی کا اعلان کرنا ہوگا۔

NCP-SP Urdu News 17 August 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading