ایس آئی آر میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کی تفصیلات دینے سے الیکشن کمیشن کا انکار

تجارتی راز اور دانشورانہ ملکیت کا حوالہ، مصنوعی ذہانت کے استعمال اور ووٹروں کے اعداد و شمار کی جانچ کے طریقۂ کار پر بھی سوالات

نئی دہلی، 26 اکتوبر: ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کا نام اور اس کا نسخہ بتانے سے انکار کردیا ہے۔ کمیشن نے حق معلومات قانون کے تحت دی گئی درخواست کے جواب میں کہا کہ یہ معلومات تجارتی رازداری، تجارتی راز اور دانشورانہ ملکیت سے متعلق ہیں، اس لیے قانون کی دفعہ 8(1)(d) کے تحت انہیں ظاہر کرنے سے استثنیٰ حاصل ہے۔

ہندوستان ٹائمز اور دیگر ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق، یہ معاملہ تلنگانہ کے کریم نگر سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن ایم اے مجیب ایوب کی جانب سے دائر کردہ حق معلومات کی درخواست کے بعد سامنے آیا ہے۔ درخواست میں ووٹر لسٹوں میں موجود غلطیوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر یا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کے بارے میں تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ الیکشن کمیشن کا جواب 16 اکتوبر کو دیا گیا۔

کمیشن نے واضح کیا کہ ایس آئی آر کے لیے کوئی نیا سافٹ ویئر تیار نہیں کیا گیا اور نہ ہی خریدا گیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ متعلقہ اسمبلی حلقے کے انتخابی رجسٹریشن افسر کو ووٹر لسٹ تیار کرنے اور اس میں نظرثانی کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ ووٹر کا نام شامل کرنے یا خارج کرنے کا فیصلہ حقائق اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر متعلقہ افسر کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے استعمال پر وضاحت نہیں

درخواست گزار نے یہ بھی جاننا چاہا تھا کہ آیا ووٹر کے اعداد و شمار میں غلطیوں یا تضادات کی نشاندہی کرنے والا نظام خودکار طریقے سے ریکارڈ کو جانچ، تصحیح یا نام خارج کرنے کے لیے نشان زد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، پیش گوئی پر مبنی تجزیے یا خودکار فیصلہ سازی کے نظام کے استعمال کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

درخواست میں یہ تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں کہ اگر کسی حقیقی ووٹر کے ریکارڈ کو غلطی سے مشتبہ قرار دیا جائے تو اس کی روک تھام کے لیے کیا حفاظتی انتظامات موجود ہیں اور نشان زد کیے گئے ریکارڈ کی جانچ کون کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمیشن نے خودکار نظام اور مصنوعی ذہانت سے متعلق بعض سوالات کے جواب میں کہا کہ مطلوبہ معلومات وضاحت طلب کرنے کے زمرے میں آتی ہیں اور حق معلومات قانون کی دفعہ 2(f) کے تحت اس نوعیت کی وضاحت فراہم کرنا لازم نہیں ہے۔ نشان زدہ ریکارڈ کی جانچ کرنے والے افسر کے بارے میں سوال پر کمیشن نے قانون کی دفعہ 8(1)(g) کا حوالہ دیا، جو مخصوص حالات میں ایسی معلومات کے انکشاف سے استثنیٰ دیتی ہے جن سے کسی شخص کی جان یا جسمانی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہو یا خفیہ ذرائع کی شناخت ظاہر ہوسکتی ہو۔

کانگریس نے شفافیت پر سوال اٹھائے

اس معاملے پر کانگریس نے الیکشن کمیشن کے رویے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ کمیشن ووٹر لسٹوں کی نظرثانی میں استعمال ہونے والے نظام کے بارے میں ضروری معلومات فراہم نہیں کررہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق تفصیلات سامنے نہ آنے کے باعث انتخابی عمل کی شفافیت پر شکوک پیدا ہورہے ہیں۔

کانگریس نے الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل نظام ای سی آئی نیٹ کے کردار پر بھی سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ایس آئی آر کی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر جان بوجھ کر ردوبدل کیے جانے سے متعلق کانگریس کے الزامات کی آزادانہ تصدیق ان رپورٹوں سے نہیں ہوتی۔

انتخابی نظام میں اختیارات اور نگرانی کا معاملہ

اس تنازع کے پس منظر میں الیکشن کمیشن کے اندر انتخابی سافٹ ویئر اور ووٹر ڈیٹا تک رسائی کے معاملے پر اختلافات کی خبریں بھی سامنے آچکی ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کمیشن کے بعض فیصلوں اور انتخابی عمل سے متعلق اقدامات پر متعدد مرتبہ اعتراضات درج کرائے تھے۔

ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹوں کی جانچ کا مقصد انتخابی فہرستوں میں موجود غلطیوں اور بے ضابطگیوں کی اصلاح کرنا ہے، لیکن اس عمل کے دوران اہل ووٹروں کے نام حذف ہونے یا انہیں اپنے اندراج کے سلسلے میں مشکلات پیش آنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں۔

فی الحال الیکشن کمیشن نے سافٹ ویئر کا نام، اس کا نسخہ اور اس کے تکنیکی طریقۂ کار سے متعلق تمام مطلوبہ تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔ اس صورت حال میں یہ معاملہ انتخابی فہرستوں کی تیاری، ڈیجیٹل نظام کی نگرانی، حق معلومات قانون کے دائرۂ کار اور انتخابی عمل میں شفافیت کے حوالے سے بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

حوالہ: ہندستان ٹائمز، دی وائر اور اسکرول کی 25 اکتوبر 2026 کی رپورٹیں۔