ہمیں مہاراشٹر کی حکومت تبدیل کرنی ہے، 4 مہینے بعد ریاست میں ایم وی اے کی حکومت ہوگی: شرد پوار

پونے: این سی پی-ایس پی کے سربراہ شرد پوار نے بارامتی میں آج ایک بار پھر ریاستی حکومت کو تبدیل کرنے کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مہاراشٹر کے انتخابات تین چار ماہ میں ہوں گے۔ میری کوشش ہے کہ کچھ بھی ہو جائے، ریاست میں حکومت تبدیل کرنا ہے اور حکومت اپنے ہاتھ میں لینا ہے۔ ہم آئندہ اسمبلی انتخابات جیتے گیں، بس آپ سب لوگ اپنا اتحاد برقرار رکھیں۔ وہ بارامتی میں شرسوپھل گاؤں میں ایک پرگرام کے درمیان لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔

شرد پوار نے کہا کہ وہ ریاست کے کسانوں کے مسائل پر وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے بات کریں گے۔ کسانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ سے اصرار کریں گے۔ پھر بھی اگر کسانوں کے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں تو ہم چار ماہ بعد دیکھیں گے جب ریاست میں اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ اس انتخاب کے بعد اقتدار تبدیل ہوگا اور کسانوں کے حل ہوں گے۔

این سی پی- ایس پی کے سربراہ نے کہا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ بارامتی میں کوئی معجزہ ہوا ہے۔ لیکن یہ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بارامتی الیکشن کے موضوع بحث ہونے کی اصل وجہ خود وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ کیونکہ وہ اس الیکشن پر بذات خود توجہ دے رہے تھے، اس لیے انھوں نے عوامی سطح پر وہ باتیں کیں جو الیکشن میں نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بارامتی لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران لوگ زیادہ باتیں نہیں کر رہے تھے۔ لوگوں نے خود کو غیر ضروری باتوں سے دور رکھا۔ لیکن پولنگ کے وقت ایک بھی گاؤں پیچھے نہیں رہا۔ لوگوں نے خاموشی سے بٹن دبایا۔ نوجوانوں اور بزرگوں نے یہ الیکشن اپنے ہاتھ میں لیا اور یہ نتیجہ سامنے آیا اور یہ آپ سب کا تعاون بڑا ہے۔

شرد پوار صاحب نے کہا کہ بارامتی میں کئی کمپنیاں لائی گئیں، جن میں سے ایک کا نام ڈائنامکس، دوسری کا نام فیریرو ہے۔ وہاں دودھ کے پاؤڈر سے چاکلیٹ تیار کی جاتی ہے۔ یہ کمپنیاں دنیا کی بڑی کمپنیاں ہیں۔ ان کمپنیوں 12 لاکھ لیٹر دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب ارامتی، اندا پور، دونڈ اور کرمالا سے 12 لاکھ لیٹر جمع ہوتے ہیں ۔ میں نے یہاں آتے ہی سب کے گھر کے باہر گائے دیکھی تو محسوس ہوا کہ دودھ کا کاروبار دو پیسے دینے والا ہے۔

شرد پوار نے کہا کہ ہم مہاراشٹر میں اچھے لوگوں کو لائیں گے اور ان کے ذریعے ہم مہاراشٹر کی حکومت اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ یہ ناممکن نہیں ہے۔ آپ لوگوں نے مجھے چار بار وزیر اعلیٰ، دس بار وزیر زراعت، دو بار وزیر دفاع منتخب کیا۔ یہ سب آپ لوگوں کی اجتماعی طاقت سے ہو سکتا ہے۔ میں اب تک کئی الیکشن لڑ چکا ہوں۔ دراصل مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ میں نے کتنے الیکشن لڑے ہیں۔ شروع میں میں آپ سے رائے پوچھنے آیا تھا۔ لیکن بعد میں میں نے آپ سے صرف کام کے ذریعے رابطہ رکھا۔ میں یہاں ووٹ مانگنے نہیں آیا۔ لیکن آپ نے اپنے ووٹوں سے کبھی محروم نہیں کیا۔ آپ اپنا کام بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ اب بھی کر رہے ہیں تاہم اس الیکشن میں صورتحال قدرے مختلف تھی۔ اس حالت میں بھی آپ نے میری توقع کے مطابق ووٹ دیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading