انتخابات میں جمہوریت کا لباس تار تار ہو رہا ہے اور الیکشن کمیشن دھرت راشٹر بنا بیٹھا ہے: ورشا گائیکواڑ

مہاراشٹر میں پانچ ماہ میں 32 لاکھ ووٹر کیسے بڑھ گئے؟، راہل گاندھی نے حقائق کے ساتھ ووٹ چوری کا پردہ فاش کیا مگر حکومت اور کمیشن دونوں بےحس

نئی دہلی/ممبئی: ہندوستان کو دنیا کی عظیم ترین جمہوریت کہا جاتا ہے اور اس جمہوری ڈھانچے میں انتخابات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انتخابات کو شفاف، غیرجانبدار اور منصفانہ طریقے سے منعقد کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں ملک میں جس انداز سے انتخابات ہوئے ہیں، اس نے عوام کے اعتماد کو بری طرح جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ووٹ چوری کھلے عام ہو رہی ہے، مگر الیکشن کمیشن مہابھارت کے دھرت راشٹر کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھے بیٹھا ہے۔ یہ سخت تنقید ممبئی کانگریس کی صدر اور لوک سبھا رکن ورشا گائیکواڑ نے کیا ہے۔

لوک سبھا میں ووٹ چوری کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی سنگین بےضابطگیوں کو ٹھوس شواہد کے ساتھ بےنقاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹوں میں حیران کن حد تک گڑبڑیاں سامنے آئی ہیں۔ مہاراشٹر میں 2019 سے 2024 کے پانچ برسوں میں 39 لاکھ ووٹرز کا اضافہ ہوا، مگر حیران کن طور پر 2024 کی لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان صرف پانچ ماہ میں ہی 32 لاکھ نئے ووٹرز شامل کر دیے گئے، جو سراسر مشکوک ہے۔ گائیکواڑ نے کہا کہ بی جے پی حکومت ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کا نعرہ لگاتی ہے، لیکن بہار، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرانے کی ہمت نہیں دکھاتی۔ اگر یہ انتخابات ایک ہی وقت ہوتے تو نتائج یقیناً مختلف ہوتے۔

ممبئی کانگریس کی صدر نے مزید کہا کہ بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے ایس آئی آر کا عمل شروع کیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ اسے 12 ریاستوں میں نافذ کیا جائے گا، لیکن مہاراشٹر کو اس فہرست سے جان بوجھ کر باہر رکھا گیا۔ الیکشن کمیشن کی کارروائیوں نے پورے انتخابی عمل کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے اور عوام کا اعتبار مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی نے کورونا، نوٹ بندی، سول ایوی ایشن بحران اور دیگر معاملات پر وقتاً فوقتاً حکومت کو خبردار کیا تھا، مگر مودی حکومت نے ہمیشہ ان کی باتوں کو نظرانداز کیا، جس کے نتائج ملک کو بھگتنا پڑے۔ آج جب راہل گاندھی ووٹ چوری کے ثبوت سامنے لا رہے ہیں، پھر بھی نہ حکومت سنجیدہ دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن۔

ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے روپے اور الیکشن کمیشن کے درمیان تنزلی کی کوئی مقابلہ آرائی چل رہی ہے، اور دونوں کی ساکھ ایک ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر جمہوریت کی دفاعی دیوار اسی طرح کمزور ہوتی رہی تو انتخابات محض ایک رسمی عمل رہ جائیں گے اور عوام کا اعتماد ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

MRCC Urdu News 10 Dec. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading