نئی دہلی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے دوران سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے سخت سوالات کئے ہیں۔ کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا کی میزبانی میں نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس میں راہل گاندھی، این سی پی-ایس پی کی سپریا سولے اور شیو سینا کے سنجے راوت نے شرکت کی۔ راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران مہاراشٹر کے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی بنیادی شرط شفاف انتخابات ہیں، لیکن حالیہ انتخابات میں کئی مشکوک معاملات سامنے آئے ہیں، جن پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔
راہل گاندھی نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2019 سے 2024 کے درمیان پانچ سال میں مہاراشٹر کی ووٹر لسٹ میں 32 لاکھ نئے ووٹرز کا اضافہ ہوا، لیکن حیران کن طور پر لوک سبھا انتخابات کے صرف پانچ ماہ میں یہ اضافہ 39 لاکھ تک بڑھ گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب پانچ سال میں 32 لاکھ ووٹرز کا اضافہ ہوا تو محض پانچ ماہ میں 39 لاکھ ووٹرز کہاں سے آگئے؟ مزید برآں مہاراشٹر کی بالغ آبادی 9.54 کروڑ ہے، لیکن الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹرز کی تعداد 9.7 کروڑ بتائی جا رہی ہے، جو انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگی کی واضح دلیل ہے۔
راہل گاندھی نے ووٹنگ کے رجحانات پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ کئی اسمبلی حلقوں میں جہاں لوک سبھا انتخابات کے دوران کانگریس، این سی پی اور شیو سینا کو تقریباً برابر ووٹ ملے، وہیں بی جے پی کے ووٹوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ کامٹی اسمبلی حلقے کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو 1.36 لاکھ ووٹ ملے، جبکہ اسمبلی انتخابات میں یہ تعداد 1.34 لاکھ رہی، یعنی کوئی بڑا فرق نہیں آیا۔ لیکن دوسری طرف بی جے پی کو 1.19 لاکھ ووٹ ملے، اور جو 35 ہزار نئے ووٹرز کا اضافہ ہوا وہ تمام کے تمام ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں چلے گئے، جس سے انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کیا گیا، خاص طور پر دلت، آدیواسی اور اقلیتی ووٹرز کے نام ایک بوتھ سے دوسرے بوتھ میں منتقل کر دیے گئے، تاکہ ان کے ووٹ متاثر کیے جا سکیں۔ اپوزیشن پارٹیوں نے الیکشن کمیشن سے بار بار درخواست کی کہ وہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کی ووٹر لسٹ فراہم کرے، لیکن کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی خاموشی یہ ثابت کرتی ہے کہ انتخابات میں سنگین گڑبڑ ہوئی ہے اور ووٹر لسٹ میں من مانی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ راہل گاندھی نے اس معاملے میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شفاف انتخابات کرانا اپوزیشن کی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں صرف یہ چاہتی ہیں کہ انتخابات میں کوئی ہیرا پھیری نہ ہو اور اسی لیے وہ الیکشن کمیشن سے ووٹر لسٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر سب کچھ شفاف ہے تو ووٹر لسٹ فراہم کرنے میں اتنی ہچکچاہٹ کیوں ہے؟
راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کے اعداد و شمار کو بھی چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یونین منسٹری آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر کے مطابق مہاراشٹر میں بالغ آبادی 9.54 کروڑ ہے، جبکہ ووٹر لسٹ میں 9.7 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز دکھائے جا رہے ہیں، اور حیران کن طور پر ووٹنگ ٹرن آؤٹ 102 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو کسی بھی لحاظ سے ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی مخصوص جماعت کا نہیں بلکہ ملک کی جمہوریت کا ہے، اور عوام کو اس معاملے پر آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن سے سوال کریں، کیونکہ اگر انتخابات میں دھاندلی جاری رہی تو ملک میں جمہوری نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
