کسانوں کے نام پر مہاراشٹر ایگریکلچر انڈسٹری ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعے مہایوتی حکومت کی لوٹ مار
بیٹری اسپریئر کی قیمت 2450 روپے، خریداری 3425.60 روپے میں، من پسند نااہل کمپنیوں کو سپلائی کا کنٹریکٹ دیا گیا
نیلامی سے لے کر خریداری تک بے ضابطگیاں، پوری کارروائی غلط اور غیر قانونی سپلائرز کے ساتھ سازباز کر کے گھوٹالہ کیا گیا
بدعنوانی کی رقم منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر منگیش گونداولے اور جنرل مینیجر (اکاؤنٹس و فائنانس) سُجیت پاٹل سے وصول کی جائے اور قصورواروں پر سخت کارروائی ہو
ممبئی: مہاراشٹر میں مہایوتی حکومت کے تحت زرعی محکمہ بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے۔ کسانوں کی فلاح و بہبود کے نام پر شروع کی گئی اسکیموں کے ذریعے عوامی پیسہ لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کسانوں کو دیے جانے والے بیٹری اسپریئر کی خریداری میں بھی بدعنوانی کی گئی ہے، جس میں 80.99 کروڑ روپے کی خریداری میں 23.07 کروڑ روپے کا بڑا گھوٹالہ ہوا ہے۔ یہ سنسنی خیز الزام مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے عائد کیا ہے۔
نانا پٹولے نے حکومت کی بدعنوانی کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی محکمہ نے کسانوں کے لیے مختص اسکیموں کو لوٹ مار کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ کپاس ذخیرہ کرنے کے تھیلوں کی خریداری میں بدعنوانی کے بعد، اب بیٹری اسپریئر کی خریداری میں بھی اسی طرز پر گھوٹالہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت کسانوں کو سبسڈی پر سامان فراہم کرنے کی غرض سے مہاراشٹر ایگریکلچر انڈسٹری ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور زرعی وزارت نے بیٹری اسپریئر کی خریداری میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں کیں۔ 28 مارچ 2024 کو 80.99 کروڑ روپے کی رقم مہاراشٹر ایگریکلچر انڈسٹری ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو پیشگی ادا کی گئی، جبکہ اصل میں بیٹری اسپریئر کی خریداری براہ راست سپلائر سے ہونی چاہیے تھی۔
نانا پٹولے کے مطابق حکومت کی بددیانتی اس حد تک بڑھی کہ اس خریداری کے لیے کوئی ای-ٹینڈر جاری نہیں کیا گیا، بلکہ ایک چالاکی سے ’پونے کے ورکشاپ کی جگہ کرایے پر دینے‘ کے عنوان سے ایک بے ربط ٹینڈر جاری کر کے بدعنوانی کو انجام دیا گیا۔ مزید یہ کہ جب ملک میں لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ضابطہ اخلاق نافذ تھا، اس وقت بغیر الیکشن کمیشن کی منظوری کے 5 اپریل 2024 کو یہ ٹینڈر جاری کیا گیا۔ مہاراشٹر ایگریکلچر انڈسٹری ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر منگیش گونداولے اور اکاؤنٹس و فنانس جنرل منیجر سوجیت پاٹل نے اپنے من پسند سپلائرز کو غیر قانونی طریقے سے نوازا۔
نانا پٹولے نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے اندور میں قائم ’نواکَر ایگرو‘ کمپنی، جس کا زرعی آلات بنانے یا اسپریئر سے متعلق کوئی رجسٹریشن نہیں تھا، اسے سپلائی کا کنٹریکٹ دیا گیا۔ اس کے علاوہ ’مسند ایگرو‘ کمپنی نے ٹینڈر کے دوران ہی تحریری طور پر وضاحت دی تھی کہ وہ اس معاہدے کے لیے رضامند نہیں، اس کے باوجود اسے اہل قرار دیا گیا۔ اسی طرح ’ستیَش ایگرو‘ اور ’آدرش پلانٹ پروٹیکٹ‘ نامی کمپنیاں جو کہ بی آئی ایس (BIS) لائسنس یافتہ نہیں تھیں، انہیں بھی سپلائی کی فہرست میں شامل کر لیا گیا، جبکہ ٹینڈر کے مطابق ان کے لیے یہ لائسنس ضروری تھا۔
ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ اس گھوٹالے میں حکومتی خزانے کو براہ راست نقصان پہنچایا گیا ہے۔ عام مارکیٹ میں بیٹری اسپریئر کی قیمت 2450 روپے ہے، مگر حکومت نے یہ 3425.60 روپے فی یونٹ کی شرح سے خریدا۔ یعنی فی اسپریئر 976 روپے زیادہ قیمت ادا کر کے مجموعی طور پر 23 کروڑ 7 لاکھ 52 ہزار 772 روپے کا مالی گھوٹالہ کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹینڈر میں کم از کم تین اہل بولی دہندگان ہونے لازمی تھے، مگر یہاں صرف دو کمپنیوں نے بولی لگائی اور دونوں کمپنیاں غیر اہل تھیں، اس کے باوجود انہیں ٹھیکہ دے دیا گیا۔ مزید یہ کہ نواکَر ایگرو کمپنی نے 17 مختلف زرعی آلات کے ٹینڈر میں بولی لگائی اور سب میں ایل-1 (Lowest Bidder) قرار پائی، جو کہ سراسر مشکوک ہے اور اس میں بدعنوانی کے امکانات واضح ہیں۔
نانا پٹولے نے اس گھوٹالے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے نام پر بدعنوانی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر ایگریکلچر انڈسٹری ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر منگیش گونداولے اور اکاؤنٹس و فنانس جنرل منیجر سوجیت پاٹل سے یہ بدعنوانی کی رقم وصول کی جائے اور قصوروار افسران اور سابقہ وزیر زراعت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ اور دونوں نائب وزرائے اعلیٰ زرعی شعبے میں ہونے والی بدعنوانی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، مگر کانگریس پارٹی کسانوں کے نام پر ہونے والی اس لوٹ مار کو برداشت نہیں کرے گی۔ کانگریس اسمبلی میں اس گھوٹالے پر حکومت کو آڑے ہاتھ لے گی اور بدعنوان وزیروں اور افسران کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔ نانا پٹولے نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس معاملے میں کارروائی نہ کی تو کانگریس کسانوں کے ساتھ سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرے گی اور بدعنوان عناصر کو بے نقاب کر کے رہے گی۔