ذات پر مبنی مردم شماری کا فیصلہ راہل گاندھی کی جدوجہد اور نظریات کی بڑی فتح ہے: ہرش وردھن سپکال

اب مرکز کو چاہیے کہ تحفظات کی 50 فیصد حد بھی ختم کرے: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کا مطالبہ

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری کا فیصلہ حزبِ اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی کی مسلسل جدوجہد اور ان کے نظریۂ سماجی انصاف کی ایک عظیم کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کا یہ مؤقف ہمیشہ سے واضح اور پختہ رہا ہے کہ ہر ذات اور طبقے کو سماجی انصاف ملنا چاہیے، اور اسی بنیاد پر انہوں نے بار بار ذات پر مبنی مردم شماری کی مانگ اٹھائی تھی۔

سپکال نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے طویل عرصے تک اس کا سختی سے مخالفت کی، لیکن آخرکار، تاخیر سے سہی، مرکز کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور اب اس سمت میں قدم اٹھایا گیا، جس کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ صرف مردم شماری ہی کافی نہیں ہے، اب حکومت کو چاہیے کہ وہ تحفظات (ریزرویشن) کی موجودہ 50 فیصد حد کو بھی ختم کرے تاکہ دلت، پسماندہ اور محروم طبقات کو حقیقی معنوں میں ترقی کا فائدہ مل سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ سماجی انصاف کا ساتھ دیا ہے اور راہل گاندھی نے اس کے لیے طویل جدوجہد کی ہے۔ آج ایک بار پھر ان کی دوراندیشی ملک کے سامنے درست ثابت ہوئی ہے۔ سپکال نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی سماجی مساوات میں یقین رکھتی ہے تو پھر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے اعلیٰ عہدوں پر او بی سی، پسماندہ یا دلت کارکنان کو کب موقع دیا جائے گا؟ کانگریس اس پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔

بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ پچھلے 11 سالوں میں بی جے پی نے عوام سے کیے گئے ایک بھی وعدے کو پورا نہیں کیا۔ ہر سال دو کروڑ روزگار دینے، کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے، پٹرول و ڈیزل کی قیمت 40 روپے فی لیٹر تک لانے اور بیرون ملک سے کالا دھن لا کر ہر شہری کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے جمع کرنے جیسے وعدے محض انتخابی جملے ثابت ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری کا یہ فیصلہ بھی دیگر وعدوں کی طرح کھوکھلا نہ ثابت ہو۔ سپکال نے کہا کہ راہل گاندھی نے اس سے پہلے بھی کئی ایسے مسائل اٹھائے تھے جنہیں بی جے پی حکومت نے نظر انداز کر دیا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ان کے تمام نکات درست اور ضروری تھے۔ اب ذات پر مبنی مردم شماری کے فیصلے سے یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading