مرکزی حکومت کی مزدوروں کو سرمایہ داروں کا غلام بنانے کی سازش: حسین دلوائی

کیا وزیراعظم کا دفتر اڈانی وامبانی چلارہے ہیں؟

ممبئی: حکومت سے کسی بھی قسم کی اجازت کے بغیر 300سے کم ملازمین والی صنعتوں کو بند کرنے کی اجازت دینے کا مرکزی حکومت کا فیصلہ مزدوروں کو برباد کرتے ہوئے انہیں سرمایہ داروں کا غلام بنانے کی سازش ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاوزیراعظم کا دفتر اڈانی وامبانی چلارہے ہیں؟ یہ سوال آج یہاں سابق ممبرپارلیمنٹ حسین دلوائی نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرکز میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلسل سرامایہ داروں کے مفاد کے لیے کام کررہی ہے۔

نوٹ بندی اوربغیرکسی منصوبہ بندی کے لاگو کی گئی جی ایس ٹی کی وجہ سے ملک کی معیشت پہلے ہی برباد ہوچکی ہے کہ اچانک کسی پلاننگ کے بغیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے جھوٹے کارخانہ دار وچھوٹے بیوپاری ومزدور تباہ ہوگئے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے دوران کروڑوں لوگوں کے روزگار ختم ہوگئے اوران پر فاقہ کشی کی نوبت آچکی ہے۔ بہت سے مزدور خودکشی تک کرچکے ہیں۔ مرکزی حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک کی صنعتیں روزآنہ بند ہورہی ہیں۔ ایسے مشکل دور میں مزدوروں کے مفاد کا تحفظ کرنا انتہائی ضروری تھا لیکن مودی حکومت پبلک سیکٹر کی صنعتوں کو نجی سرامایہ داروں کو فروخت کرکے مزدوروں کو بیروزگار کررہی ہے۔

بی جے پی حکومت سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مزدروں کو اکھاڑ پھینکنے کا یک نکاتی پروگرام پرعمل کررہی ہے۔ اس حکومت نے نئے زرعی بل لاکر کسانوں کو برباد کیاہی،اب مزدور قانون میں تبدیلی کی وجہ سے مزدوروں پر تباہی وبربادی کے دن آجائیں گے۔ پہلے مزدور لیڈر آنجہانی نارائن میگھاجی لوکھنڈے نے مزدوروں کے لیے جو تحریک شروع کی تھی اسے ختم کرنے کی یہ پوری سازش ہے۔

حسین دلوائی نے یہ یقین ظاہر کی ہے کہ ملک کے بھر کے مزدور مودی حکومت کی اس مزدور مخالف پالیسی کی سخت مخالفت کیے بغیر نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے 1929میں کچھ قوانین بناکر کچھ حدتک مزدورں کے حقوق کی حفاظت کی تھی، اسے بھی مودی حکومت نے ختم کردیا ہے۔ اس لیے اب یہ کہنے کا وقت آگیا ہے کہ بی جے پی حکومت سے بہتر انگریزوں کی حکومت تھی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading