وزیرِاعظم مودی کو نقصان زدہ مہاراشٹر کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کرنا چاہیے: ہرش وردھن سپکال
چیف جسٹس بھوشن گوئی پر حملہ منواد کے حامیوں کی حرکت، حملہ آور کا خاندانی نام کیوں چھپایا جا رہا ہے؟
شمالی مہاراشٹر کے اضلاع کی ناسک میں تنظیمی و انتخابی جائزہ میٹنگ منعقد
ناسک: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ مئی سے جاری شدید بارشوں اور تباہ کن ژالہ باری نے خریف کی فصل مکمل طور پر برباد کر دی ہے، جس سے کسانوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ کسانوں کو حکومت سے بھرپور مالی مدد کی امید تھی مگر ریاستی حکومت نے جو پیکیج جاری کیا ہے وہ سراسر فریب نکلا۔ یہ پیکیج کسانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ وزیرِاعظم نریندر مودی ممبئی کے دورے پر آئے لیکن مہاراشٹر کے کسانوں کے لیے ایک پیسے کی امداد کا بھی اعلان نہیں کیا۔ بہار، گجرات اور پنجاب کو مرکزی امدادی پیکیج دینے والے مودی نے مہاراشٹر کو بالکل نظرانداز کر دیا ہے۔ اس لیے وزیر اعظم مودی کو فوراً مہاراشٹر کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کرنا چاہیے۔
یہ بات انہوں نے شمالی مہاراشٹر کے اضلاع کی تنظیمی و انتخابی جائزہ میٹنگ میں کہی، جس کی صدارت انہوں نے خود کی۔ اجلاس میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن و سینئر رہنما بالا صاحب تھورات، رکنِ پارلیمنٹ شو بھا بچھاوا، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری بی ایم سندیپ، تنظیمی و انتظامی نائب صدر ایڈووکیٹ گنیش پاٹل، راجارام پانگاونے، نائب صدر شرد آہیر، جنرل سیکریٹری گربندر سنگھ بچھر، رام وجے برنگلے، ترجمان و ضلع نگراں سچن ساونت، دھولے کے دیہی صدر پروین چورے، ناسک دیہی صدر شریش کوتوال، سابق ایم ایل اے شریش نائک، اسمبلی انچارج برج کشور دت، سیکریٹری شرُتی ماتھرے، شہر صدر آکاش چھاجیڑ سمیت بڑی تعداد میں عہدیداران و کارکن شریک ہوئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مہا یوتی حکومت کا کسان پیکیج دھوکہ دہی ہے۔ اس میں انشورنس کلیم اور آسمانی بجلی سے مرنے والوں کے معاوضے کو بھی شامل کر کے اعداد بڑھائے گئے ہیں۔ کانگریس نے شروع سے مطالبہ کیا ہے کہ’قحط باراں‘ قرار دے کر فی ہیکٹر پچاس ہزار روپے کی امداد، زمین کی بربادی پر فی ہیکٹر پانچ لاکھ روپے اور قرض معافی کی اسکیم نافذ کی جائے۔ مودی ممبئی آئے، مگر کسانوں کے دکھ پر ایک لفظ بھی نہیں بولے۔ وہ صرف اپنے دوست کے ایئرپورٹ کا افتتاح کر کے چلے گئے۔ یہ مہاراشٹر کی توہین ہے۔ حکومت نے عوامی غصے کو دبانے کے لیے ایک فریب پیکیج پیش کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نوی ممبئی ایئرپورٹ ابھی تیار نہیں، مگر انتخابات کی نظروں میں رکھ کر جلد بازی میں افتتاح کر دیا گیا۔ اسی طرح پہلے بحرِ عرب میں شیو اسمارک کا افتتاح کیا گیا، اندو مل میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر میموریل کا اعلان ہوا، مگر انجام کیا ہوا؟ ہر گھر میں 15 لاکھ روپے، ہر سال دو کروڑ نوکریاں، سو اسمارٹ سٹیز، اور زرعی صنعتوں کے وعدے—یہ سب کہاں گئے؟
سپکال نے کہا کہ ریاست میں قانون و نظم کی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ خواتین پر ظلم کے واقعات بڑھ گئے ہیں، منشیات کا کالا بازار کھلے عام جاری ہے۔ رام کی نگری ناسک، جو مذہبی اور تاریخی اہمیت رکھتی ہے، وہاں ڈرگ مافیا سرگرم ہے۔ اس کے تار گجرات تک پہنچتے ہیں جنہیں بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ صرف ناسک میں نو مہینوں میں 44 قتل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست میں امن و امان بگڑ چکا ہے تو وہاں کل وقتی وزیرِ داخلہ ہونا چاہیے، مگر یہاں وزیرِ مملکت برائے داخلہ کی والدہ کے نام پر ڈانس بار چل رہا ہے اور بدمعاشوں کو اسلحے کے لائسنس مل رہے ہیں۔ ایسے وزیر کو برطرف کیا جانا چاہیے، مگر وزیرِاعلیٰ ان کا دفاع کر رہے ہیں۔ جس طرح رمی کھیلنے والے وزیرِ زراعت کو ترقی ملی، اسی طرح یوگیش قدم کو بھی ترقی دی جا سکتی ہے، جو انتہائی شرمناک ہے۔
چیف جسٹس بھوشن گوئی پر عدالت کے اندر حملہ منواد کے پیروکاروں کی شرمناک حرکت ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ حملہ آور کا خاندانی نام جان بوجھ کر چھپایا جا رہا ہے، جیسے کبھی افضل خان کے واقعے میں حملہ آور کا نام چھپایا گیا تھا۔ ڈومبیولی میں بھی 72 سالہ کانگریسی کارکن پر ذات پات کی گالیوں کے ذریعے ظلم ہوا، اور اب یہی نفرت چیف جسٹس پر حملے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اگر ابھی سخت قدم نہ اٹھائے گئے تو یہ رجحان پورے ملک میں پھیل جائے گا۔ اس موقع پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے میڈیکل سیل کے ریاستی صدر (ودربھ کے علاوہ) کے طور پر پروفیسر گیانیشور گائکواڑ اور ودربھ کے صدر کے طور پر ڈاکٹر ابھیودے میگھے کی تقرری کی گئی۔ کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال اور سینئر رہنما بالا صاحب تھورات نے دونوں کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیں۔
MPCC Urdu News 9 October 25.docx