ملک میں انگریز حکومت سے بھی خوفناک صورتحال، جمہوریت اور آئین کو نگلنے والی طاقتیں ’چلے جاؤ‘: ہرش وردھن سپکال
’اگست کرانتی دن‘پر کانگریس پارٹی اور سماجی تنظیموں کی پدیاترا، شہداء کو خراجِ عقیدت
ممبئی: آج کے دن 1942 میں مہاتما گاندھی نے’کرو یا مرو‘کا نعرہ دیتے ہوئے انگریز حکمرانوں کو ’ چلے جاؤ‘کا پیغام دیا تھا۔ آج ملک میں ایک مرتبہ پھر ویسی ہی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ آمرانہ رجحانات پنپ رہے ہیں جو جمہوریت اور آئین کو نگلنا چاہتے ہیں۔ ان خطرناک رجحانات کے خلاف آواز بلند کرنے اور انہیں ’چلے جاؤ‘ کی وارننگ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے اگست کرانتی دن کے موقع پر کہی۔
اس موقع پر گرگاؤں چوپاٹی پر واقع لوک مانیہ تلک کے مجسمہ سے ہرش وردھن سپکال اور مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی کی قیادت میں اگست کرانتی میدان تک پدیاترا نکالی گئی۔ گوالیار ٹینک پر آزادی کی جنگ اور’انگریزوں چلے جاؤ‘،’بھارت چھوڑو‘تحریک کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ممبئی کانگریس کی صدر و رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر راجن بھوسلے، سینئر ترجمان اتل لونڈھے، چرن سنگھ سپرا، جنرل سکریٹری سندیش کونڈولکر، شری رنگ برگے، شری کرشن سانگلے، ایڈووکیٹ امیت کارندے، مدھو چوہان، بھاونا جین، مونیکا جگتاپ، دھننجے شندے سمیت کانگریس کے عہدیداران اور سماجی تنظیموں کے نمایاں کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ آج مہاتما گاندھی کا پیغام اور ملک کو آزادی کیسے ملی، یہ سب کو یاد ہونا چاہیے۔ آزادی کے لیے طویل اور کٹھن جدوجہد کرنا پڑی، تب جا کر یہ حاصل ہوئی۔ لیکن آج ملک کی حالت دیکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ’چلے جاؤ‘ کا نعرہ دینے اور ایک نئی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناگپور کی ’چِپ‘ دہشت پھیلا رہی ہے، پورے نظام کو بدعنوان کر رہی ہے اور یہ چِپ عوام کے دماغ میں ٹھونسنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ مہاتما گاندھی کے قاتل نظریے، خواتین و مردوں کی مساوات کو رد کرنے والے رویّے اور چھوا چھوت کو ماننے والی ذہنیت کو ختم کرنا ہوگا۔ اگر آج اس رجحان کو کچلا نہ گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
MPCC Urdu News 9 August 25.docx