ریاست کی ای ڈی حکومت مہاراشٹرکی ہے یا گجرات کی؟

38

مشکلات میں پھنسے کسانوں کے لیے پیسے نہیں ہیں لیکن بلیٹ ٹرین پر ۶ ہزارکروڑ روپئے کی فضول خرچی

کابینہ میں عبدالستار وسنجے راٹھوڑ جیسے داغداروں کی شمولیت لیکن کسی خاتون کے لیے جگہ نہیں

ممبئی:ریاست میں ایکناتھ شندے اور دیویندر فڈنویس کی حکومت بننے کے 39 دن بعد کابینہ کی توسیع کی گئی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حکومت مہاراشٹر کی فلاح وبہبود کے لیے ہے یا گجرات کی خدمت کے لیے؟ اس حکومت کے پاس ودربھ و مراٹھواڑہ میں شدید بارش سے متاثرہ کسانوں کی مدد کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں، لیکن گجرات اور وزیراعظم کے ڈریم پروجیکٹ بلیٹ ٹرین کو مکمل کرنے کے لیے 6 ہزار کروڑ کا فنڈ ضرورہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کی ای ڈی حکومت مہاراشٹر کے لیے نہیں بلکہ گجرات کے مفاد کے لیے ہے۔ریاست کی شندے وفڈنویس حکومت پر یہ زبردست تنقید مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدرناناپٹولے نے کی ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے مزید کہا کہ ریاست میں شدید بارش سے ودربھ اور مراٹھواڑہ کے کسانوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ ہم نے ان متاثرہ کسانوں کے لیے مناسب مالی امداد کا مطالبہ کیا ہے، لیکن ریاستی حکومت مرکز کی نریندر مودی حکومت کے ڈریم پروجیکٹ بلٹ ٹرین کو اپنی ریاست کے کسانوں سے زیادہ اہم سمجھتی ہے۔یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ شندے فڈنویس حکومت کے پاس بلٹ ٹرین کے لیے پیسے ہیں لیکن کسانوں کی مدد کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حکومت کی ترجیحات کیا ہیں۔

نانا پٹولے نے کہا کہ اس حکومت کا مستقبل اب بھی سپریم کورٹ میں جاری سماعت پر ٹکا ہوا ہے لیکن ان کے پاس عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنے کا وقت نہیں ہے۔ یہ حکومت مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔لیکن ایم ایل ایز کی ناراضگی کے پیشِ نظرمجبوری میں دہلی ہائی کمان کا سات راؤنڈ میٹنگ کے بعد کابنیہ میں توسیع کوہری جھنڈی دینی پڑی ہے تاکہ یہ حکومت کسی طرح بچ سکے۔پٹولے نے کہا کہ ایم ایل اے سنجے راٹھوڑ کو سنگین الزامات کی وجہ سے مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے ہٹا دیا تھا۔ بی جے پی نے ہی راٹھوڈ کو ہٹانے کی مانگ کی تھی۔ آج انہیں سنجے راٹھوڑ کو بی جے پی حکومت میں دوبارہ وزیر بنایا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ٹی ای ٹی امتحان میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے ایم ایل اے عبدالستار کو بھی کابینہ میں جگہ دی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بدعنوان ایم ایل ایز کو بھی حکومت میں عزت واحترام کے ساتھ جگہ دی جارہی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ ان فیصلوں سے بی جے پی کا اصلی چہرہ لوگوں کے سامنے آ گیا ہے۔ دوسری پارٹی کے لوگوں پر بدعنوانی کا الزام لگانے والی اور ای ڈی، سی بی آئی، انکم ٹیکس کے ذریعے کارروائی کرانے والی بی جے پی کو اپنی ہی حکومت میں بدعنوان وزیر نظر نہیں آتے ہیں۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ کابینہ میں ایک بھی خاتون کو جگہ نہ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی خواتین کی کتنی عزت کرتی ہے۔

جنہوں نے ’ہندوستان چھوڑو‘ تحریک کی مخالفت کی، آج وہی حب الوطنی کی بات کر رہے ہیں

ریاستی کانگریس صدر نانا پٹولے کا بی جے پی پر نشانہ

مودی حکومت ملک کی جی ڈی پی کو کم کرکے ڈی پی بدلنے کے لیے کہہ رہی ہے

ہندوستان کی ہمہ جہت تعمیر میں کانگریس پارٹی کے تعاون سے کوئی انکار نہیں کرسکتا: بالاصاحب تھورات

کانگریس کی ریاست گیر آزادی گورو پد یاترا شروع، سیواگرام کی پد یاترا میں ناناپٹولے کے شرکت

ممبئی:مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے بی جے پی اور آر ایس ایس کی حب الوطنی پر سخت تنقد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک آزادی کے دور میں جن لوگوں نے ’ہندوستان چھوڑو‘ تحریک کی مخالفت کی، وہ آج حب الوطنی کی بات کر رہے ہیں۔ جب مہاتما گاندھی کی قیادت میں ’ہندوستان چھوڑو‘ کی عوامی تحریک شروع ہوئی تو آر ایس ایس کا کوئی لیڈر اس میں شامل نہیں تھا۔جب پورا ملک انگریزوں کے خلاف لڑ رہا تھا تو کچھ لوگ انگریزوں کے ساتھ میں کھڑے تھے، لیکن آج ملک کے امرت جینتی سال میں ان میں حب الوطنی کی لہر دوڑ گئی ہے۔دراصل بی جے پی اور آر ایس ایس کی حب الوطنی محض ایک دکھاوا ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے منگل کو سیواگرام میں آزادی گورو پدیاترا میں شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور ان سے وابستہ کسی بھی پارٹی یا تنظیم نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ نہیں لیا۔ ملک انگریزوں کے خلاف متحد تھا۔ جب مہاتما گاندھی نے ہندوستان چھوڑو کا نعرہ دیا تھا، اس وقت گاندھی، پنڈت نہرو، مولانا آزاد، ڈاکٹر راجندر پرساد سمیت کانگریس کے تمام اہم لیڈروں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ملک کے عام لوگوں نے اس تحریک کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ ایک نوجوان خاتون ارونا آصف علی نے اگست کرانتی میدان میں ترنگا لہرایا تھا۔ کانگریس پارٹی کے لاکھوں کارکنوں نے ہندوستان چھوڑو تحریک میں حصہ لیا۔ اس تحریک آزادی میں کانگریس پارٹی کا بہت بڑا حصہ ہے۔ جب ملک ترنگے کے نیچے متحد ہوا تو بی جے پی کی بنیادی تنظیم آر ایس ایس اس سے دور رہی۔ نانا پٹولے نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کی جی ڈی پی میں زبردست گراوٹ آئی ہے، لیکن اس کابہتربنانے کے بجائے مودی حکومت لوگوں کو اپنے موبائل فون کو ڈی پی تبدیل کرنے کا مشورہ دے رہی ہے۔

امرت مہوتسو کے موقع پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی نے ریاست کے تمام اضلاع میں 75-75 کلومیٹر کے آزادی گوروپدیاترا کا اہتمام کیا ہے۔ وردھا ضلع کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام پد یاترا ریاستی صدر نانا پٹولے کی قیادت میں سیواگرام سے شروع ہوئی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ سابق وزیر رنجیت کامبلے، سابق وزیر سنیل کیدار، ایم ایل اے ابھجیت ونجاری، چیف ترجمان اتل لونڈھے، سیوا دل کے ریاستی صدر ولاس اوتاڈے، ریاستی نائب صدر چارولتا ٹوکس، ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر منوج چندورکرسمیت بڑی تعدادمیں کانگریس کے عہدیداروں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات کی قیادت میں سنگم نیر سے پد یاترا کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے تھورات نے کہا کہ آزادی گورو پدیاترا تاریخی شہر سنگم نیر سے شروع ہوئی ہے جسے تحریک آزادی وراثت میں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جامع ہندوستان کی تعمیر میں کانگریس پارٹی کا بڑا حصہ ہے۔ تھورات نے کہا کہ ہم نے ملک کی جدوجہد آزادی کو یاد کرنے اور گزشتہ 75 سالوں میں قوم کی تعمیر میں کانگریس پارٹی کے تعاون کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے ریاست بھر میں پد یاترا نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔تھورات نے کہا کہ آزادی کی تحریک میں سنگم نیر کی سرزمین کا بہت بڑا حصہ ہے۔ یہاں کے جنگجوؤں نے کانگریس کے اجلاس کے علاوہ کئی ایجی ٹیشنوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان سب کی یاد اس لڑائی کو تقویت دیتی ہے۔ 1947 میں آزادی کے پہلے دن سنگم نیر میں تاریخی اشوکا ستون کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ اس کے شاہد عمردراز مجاہد آزادی بالاصاحب ڈانگرے کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور اس عوامی جدوجہد میں آزادی کے ہیروز کے تعاون کو سلام پیش کیا گیا۔

اس کے علاوہ ستارا میں سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، پربھنی میں سریش ورپوڈکر، دھولے میں مہاراشٹر کانگریس کے ورکنگ صدر کنال پاٹل، ناندیڑ میں قانون ساز کونسل میں گروپ لیڈر امر راجورکر، بلڈھانہ میں اے آئی سی سی سکریٹری ہرش وردھن سپکال، ضلع صدر اور ایم ایل اے راہل بوندرے، امراؤتی میں سابق وزیریشومتی ٹھاکور، ایم ایل اے بلونت وانکھیڈے، ایم ایل اے وریندر جگتاپ، ناگپور میں سابق وزیر ڈاکٹر نتن راؤت، ایم ایل اے وکاس ٹھاکرے، ولاس متیموار، پونے میں سابق وزیر رمیش باگوے، ریاستی نائب صدر موہن جوشی، چندر پور میں سابق وزیر وجے ودیٹی وار، ایم ایل اے سریش دھوٹے، ایم ایل اے پرتیبھا دھنورکر سمیت کئی لیڈروں اور کارکنوں نے پدیاترا میں حصہ لیا۔

منگل سے ریاست کے ہرضلع میں آزادی گورو پد یاتراشروع ہوئی ہے اور یہ پد یاترا 14/ اگست تک جاری رہے گی۔ ریاستی صدر پٹولے بلڈھانا ضلع کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام آزادی گورو یاترا میں شیگاؤں میں شرکت کریں گے۔