MPCC Urdu News 8 Sep 22

بی جے پی حکومت نے یعقوب میمن کی لاش اس کے اہلِ خانہ کوکیوں سونپی؟: اتل لونڈھے

یعقوب میمن کی قبرپر سیاست بی جے پی کی سازش، ملک کے لیے بی جے پی حددرجہ خطرناک ہے

ممبئی:بی جے پی کے پاس ملک کے سلگتے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی جواب ہے۔ اس لیے وہ جان بوجھ کر مذہبی مسائل کو ہوا دے رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات سے قبل بی جے پی یعقوب میمن کی قبر کا مسئلہ اٹھا کر مذہبی ماحول خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔بی جے پی پر یہ الزام آج یہاں کانگریس پارٹی کے ریاستی ترجمان چیف ترجمان اتل لونڈھے نے عائد کیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی سے سوال کیا ہے کہ 2015میں بی جے پی حکومت نے یعقوب میمن کی لاش اس کے اہلِ خانہ کوکیوں دیا اور سبھی نے دیکھا تھاکہ اس کی آخری رسومات اداکی گئیں تھیں۔ بی جے پی کو اگر یعقوب میمن سے اتنی ہی نفرت تھی تو اس نے اس کی لاش اس کے اہلِ خانہ کو کیوں سونپا۔ بی جے پی کو اس کا جواب دینا چاہئے۔

اتل لونڈھے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی دہشت گرد کی لاش لواحقین کو نہیں دی جا سکتی۔ کانگریس کے دور حکومت میں افضل گرو اور ممبئی حملے کے دہشت گرد اجمل قصاب کو پھانسی دینے کے بعد دونوں کی لاشوں کو نامعلوم مقام پر سپرد خاک کر دیا گیا تھا۔ کانگریس نے احتیاط برتی تھی تاکہ سماج میں انتہا پسندی نہ پیدا ہواور دہشت گردوں کی قدر نہ کی جانے لگے۔ جبکہ بی جے پی نے2015 میں یعقوب میمن کی لاش اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دی تھی۔ اس وقت کے بی جے پی ممبران پارلیمنٹ شتروگھن سنہا اور ورون گاندھی نے بھی یعقوب میمن کو پھانسی نہ دینے کے لیے خطوط لکھے تھے۔ کیا بی جے پی اس کے لیے معافی مانگے گی؟ اس کے علاوہ جب میت کو دفنادیا جاتا ہے تو تین سال بعد دوبارہ اس جگہ پر قبرکی کھدائی کی جاتی ہے، لیکن یعقوب میمن کی قبر کی جگہ دوبارہ کوئی قبر نہیں کھودی گئی۔ بی جے پی کو جواب دینا چاہئے کہ یہ کس کی آشیرباد سے ہوا ہے۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ بدنام زمانہ دہشت گرد مسعود اظہر کوبی جے پی حکومت کے ذریعے سرکاری سیکوریٹی میں افغانستان پہنچایا گیا تھا اور رہا کیا گیا تھا۔ بی جے پی حکومت کے دوران ہی پارلیمنٹ پر بھی حملہ ہوا تھا۔ پٹھان کوٹ حملے کے بعد بی جے پی حکومت نے ہی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو تحقیقات کے لیے ہندوستان آنے کی دعوت دی تھی۔ لونڈھے نے یہ بھی کہا کہ ان تمام مثالوں کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کے ذریعے دہشت گردی پر بات کرنا پوری طرح سے مضحکہ خیز ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading