وزیر اعلیٰ اپنی کرسی بچانے اور کمیشن کھانے میں مصروف ہیں، جب کہ نگراں وزیر بھی بی ایم سی میں دفتر بنا کر کمیشن جمع کر رہے ہیں
ممبئی: پہلی بارش کے بعد ممبئی اور اس کے مضافات میں صورتحال کافی تشویشناک ہوگئی ہے۔ ممبئی اور اس کے مضافات کے کئی حصے زیرآب آگئے ہیں، ریل اور سڑکوں کی آمدورفت میں خلل پڑا ہے اور ممبئی والوں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بی ایم سی اور ریلوے انتظامیہ کے درمیان کوئی تال میل نہیں ہے۔ دوسری طرف بدعنوانی کی وجہ سے ممبئی کی عوام کو شندے حکومت کے گناہوں کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ یہ بہت سنگین معاملہ ہے کہ ملک کا معاشی دارالحکومت ایک ہی بارش میں پانی میں ڈوب جائے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے ریاستی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی کی بارش نے شندے-فڑنویس-اجیت پوار حکومت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بدعنوان مہایوتی حکومت نے ممبئی کو چلو بھر پانی میں ڈبو دیا ہے۔
ریاست کی مہایوتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے مزید کہا کہ اس وقت ممبئی میونسپل کارپوریشن کی پوری ذمہ داری خود وزیر اعلیٰ کی ہے، لیکن ریاست غلط شخص کے ہاتھ میں جانے کی وجہ سے ممبئی اور مہاراشٹر کو خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کیا ممبئی والوں کی محنت کی کمائی کھانے کے لیے میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں دو نگراں وزیروں کے دفاتر کھولے گئے ہیں؟ پٹولے نے کہا کہ وزیراعلیٰ اپنی ناکامی کا الزام بارش پر لگا رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ممبئی میں اتنی بارش ہوئی ہے۔ ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن حالات اتنے خراب نہیں تھے جتنے آج ہیں۔ اگر مہایوتی حکومت نے تخریب کاری کی سیاست سے زیادہ اپنے کام پر توجہ دی ہوتی تو آج یہ صورتحال نہیں ہوتی۔ ممبئی میں کروڑوں روپے کی سیمنٹ کی سڑکیں بنی لیکن ان میں گڑھے پڑے ہیں۔ کوسٹل روڈ کی سرنگ میں رساو دکھائی دے رہا ہے اور اٹل سیتو میں دراڑیں دکھائی دے رہی ہیں۔ کیا یہ مہایوتی حکومت کا ’وکاس‘ ہے؟ حکومت کا دعویٰ ہے کہ میونسپل کارپوریشن نے مانسون سے قبل کی تیاری کی اور نالیوں کی مکمل صفائی کر دی ہے۔ لیکن پیر کی بارش نے ان تمام دعوؤں کی تردید کر دی ہے۔ وزیر اعلیٰ گرین کارپٹ پر کھڑے ہو کر نالوں کے معائنہ کر رہے تھے یا معائنہ کا مذاق اڑا رہے تھے؟ ان کا دوہرا معیار بے نقاب ہو چکا ہے۔ نالوں کی صفائی کے نام پر حکمران لیڈروں نے بی ایم سی کے خزانوں پر چھاپے مار کر اپنی جیبیں بھر لی ہیں۔ ایک ہی بارش کی وجہ سے قانون ساز اجلاس دن بھر کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔ یہ حکومت کی غفلت اور لاپرواہی کی بڑی مثال ہے۔
پٹولے نے کہا کہ جہاں بارش نے ممبئی میں زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے وہیں ریاست کے کئی حصوں میں مانسون کی بارشیں ابھی آنا باقی ہیں۔ کئی علاقوں میں بوائی کے مسئلے نے کسانوں کے سر پر بہت بڑا بوجھ ڈال دیا ہے۔ پانی کے بحران کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ کئی دیہاتوں میں ماؤں بہنوں کو پانی لانے کے لیے پانچ کلومیٹر تک پیدل جانا پڑتا ہے۔ ٹینکر مافیا اور سرکاری افسران مل کر کروڑوں روپے کی بدعنوانی کر رہے ہیں۔ جانوروں کے چارے کا مسئلہ انتہائی سنگین ہو چکا ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ حکومت صرف وزارت سے احکامات دیتی ہے لیکن انتظامیہ کچھ نہیں کرتی۔ ریاستی حکومت اس طرف کب توجہ دے گی؟
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر تباہ ہوچکا ہے۔ پولیس کا خوف نہ ہونے کی وجہ سے مجرم بے خوف ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے پونے میں پورش حادثے سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔ ورلی میں تیز رفتار کار نے ایک خاتون کو کچل دیا۔ یہ گاڑی شندے گروپ کے ایک عہدیدار کی ہے۔ نشے میں دھت گاڑی چلانے سے ایک معصوم خاتون کی موت ہو گئی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ وہ کسی کی حمایت نہیں کریں گے لیکن وہ کسی بات پر سنجیدہ نہیں ہیں۔ ملک بھر میں یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر ایک محفوظ ریاست نہیں ہے اور ایسا پیغام ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔ ریاست میں افسران بھی محفوظ نہیں ہیں۔ پونے میں ٹریفک برانچ کی خاتون ملازم پر پٹرول چھڑک کر اسے جلانے کی کوشش کی گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ مہاراشٹر پر غنڈے اور مافیا راج کر رہے ہیں۔