MPCC Urdu News 8 July 23

غداروں کو سب غدار

ہی نظرآتے ہیں، کانگریس میں کوئی غدار نہیں: ناناپٹولے

پارٹی چھوڑنے والے شیو سینا اور این سی پی کے لوگ مودی-شاہ کی اسکرپٹ پڑھ رہے ہیں

ہم مانسون اجلاس میں مہنگائی، بے روزگاری اور کسانوں کے مسئلہ پر حکومت سے جواب طلب کریں گے

ممبئی:ریاست میں توڑ پھوڑ کی سیاست چل رہی ہے اور اس کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہاتھ ہے۔شیو سینا اور این سی پی چھوڑنے والے لیڈر وہی زبان بول رہے ہیں، جو دہلی سے مودی اور شاہ نے اسکرپٹ لکھی ہے۔ این سی پی لیڈر اجیت پوار کی زبان وہی ہے جو شیوسینا چھوڑتے وقت ایکناتھ شندے کی تھی۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ دہلی سے مودی-شاہ کا دیا ہوا اسکرپٹ ہے۔ اگرچہ کچھ لوگ شیوسینا اور این سی پی کو چھوڑ چکے ہیں، لیکن کوئی بھی کانگریس کو نہیں چھوڑے گا۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر کانگریس ایم ایل ایز کے پارٹی چھوڑنے کی افواہیں پھیلا رہے ہیں، لیکن ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے،کانگریس میں کوئی بھی غدار نہیں ہے۔

سنیچر کو تلک بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی طاقت کے زور پر اپوزیشن پارٹیوں کو توڑ رہی ہے۔ چونکہ بی جے پی اپوزیشن پارٹیاں نہیں چاہتی، اسی لیے وہ انہیں تقسیم کرکے تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن عام لوگ بی جے پی کی اس سیاست کو پسند نہیں کر رہے ہیں۔ اس لیے تصویر یہ ہے کہ جو لیڈر پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں، انہیں ان علاقوں میں عوام کی کوئی حمایت نہیں مل رہی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ این سی پی کے صدر شرد پوار نے ہمیشہ پرفل پٹیل کو پارٹی میں اہم عہدہ دیا۔ تنظیم میں اہم ذمہ داریاں تفویض کیں۔ دس سال تک مرکزی وزیر کا عہدہ دیا۔ لوک سبھا میں شکست کے بعد راجیہ سبھا بھیج دیا گیا۔ وہی پٹیل آج شرد پوار پر تبصرہ کرتے ہوئے گھٹیا زبان استعمال کر رہے ہیں۔ یہ نہایت افسوسناک ہے۔

اسمبلی اجلاس میں بے روزگاری، مہنگائی وکسانوں کے مسائل اٹھائیں گے

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست میں بے موسم بارش اور ژالہ باری کی وجہ سے کسان سخت مشکل حالات کے شکار ہیں۔ حکومت نے مدد کا اعلان کیا لیکن کسانوں کو کوئی مدد نہیں ملی۔ کسانوں کو سویا بین، پیاز، کیلے کی فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی ہے۔ جبکہ کسانوں کے گھروں میں کپاس پڑی ہوئی ہے۔ جون کا مہینہ گزرنے کے باوجود بوائی ابھی تک نہیں ہو سکی۔ کانگریس کی رائے ہے کہ اسمبلی کے مانسون اجلاس میں ان مسائل پر بحث ہونی چاہئے۔ پٹولے نے کہا کہ 17 جولائی سے شروع ہونے والے اجلاس کے پہلے ہی دن ہم حکومت سے مہنگائی، بے روزگاری اور کسانوں کے مسئلہ پر جواب طلب کریں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading