’تین بھائیوں‘ نے لاڈلی بہنوں کے ووٹ سے اقتدار حاصل کر کے مہاراشٹر کی لاکھوں لاڈلی بہنوں کے ساتھ کیا دھوکہ

حکومت نے لاکھوں بہنوں کو اہل قرار دینے کے بعد اب انہیں فریب میں مبتلا کر دیا، شروع میں ہی معیارات کیوں طے نہیں کیے گئے؟

وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس الیکشن کمیشن کی وکالت کیوں کر رہے ہیں؟ کیا الیکشن کمیشن بی جے پی کا کارکن ہے؟

ممبئی: مہاراشٹر میں بی جے پی کی قیادت والے اتحاد نے لاڈلی بہن یوجنا کے ذریعے لاکھوں ماؤں اور بہنوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیا ہے۔ بی جے پی حکومت نے انتخابات کے وقت ووٹ حاصل کرنے کے لیے تمام بہنوں کو 1500 روپے دیے، لیکن اقتدار میں آتے ہی اب انہی بہنوں کی مالی مدد بند کرنے کا جرم کر رہی ہے۔ حکومت نے 5 لاکھ بہنوں کو اس اسکیم سے باہر کر دیا ہے اور یہ خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں لاکھوں مزید بہنوں کو اس منصوبے کے فوائد سے محروم کر دیا جائے گا۔

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے حکومت کی اس کارروائی کو لاڈلی بہنوں کے ساتھ سنگین دھوکہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ اگر یہ اسکیم واقعی ماؤں اور بہنوں کے فائدے کے لیے تھی، تو اس کے معیارات پہلے ہی کیوں طے نہیں کیے گئے؟ لاکھوں بہنوں کو پہلے اہل قرار دے کر انہیں منصوبے میں شامل کیا گیا اور جب ان کے ووٹ حاصل ہو گئے، تو اچانک انہیں نااہل ٹھہرا کر ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاڈلی بہن یوجنا کا مقصد صرف اسمبلی انتخابات میں خواتین کے ووٹ حاصل کرنا تھا۔ ہم نے مسلسل عوام کو خبردار کیا تھا کہ انتخابات کے بعد بی جے پی اتحاد اس اسکیم کے مستفیدین کے ساتھ دھوکہ کرے گی۔ اب انتخابات کے بعد بی جے پی نے اپنا اصلی رنگ دکھا دیا ہے۔

ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت میں قائم شندے حکومت اور اس کے اتحادیوں نے لاڈلی بہنوں کے ساتھ سوتیلے بچوں جیسا برتاؤ کرنا شروع کر دیا ہے۔ انتخابات سے قبل بہنوں کو 1500 روپے دیے گئے اور یہ وعدہ کیا گیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد ہر ماہ 2100 روپے دیے جائیں گے۔ لیکن آج تک کسی بھی بہن کو 2100 روپے نہیں ملے۔ اب نئی شرائط و ضوابط کی آڑ میں ان بہنوں کو اس اسکیم سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار اور دیویندر فڈنویس نے مل کر ریاست کی لاکھوں ماؤں اور بہنوں کو دھوکہ دیا، اور دوسری طرف جب انتخابات کے وقت یہ اسکیم نافذ کی گئی تھی، تب کسی بھی قسم کا معیار نہیں رکھا گیا تھا۔ لیکن اب جب بی جے پی اتحاد اقتدار میں آ گیا ہے تو وہ اچانک معیارات کا بہانہ بنا کر بہنوں کے پیسے روک دیئے گیے۔ نانا پٹولے نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے واقعی اس اسکیم کو بہنوں کے فائدے کے لیے لائی تھی، تو پہلے دن سے ہی اس اسکیم کے تمام اصول واضح ہونے چاہیے تھے۔ پہلے بہنوں کے ووٹ حاصل کیے گئے اور اب انہیں محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ سراسر دھوکہ اور فریب ہے، جسے مہاراشٹر کی بہنیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس کر کے الیکشن کمیشن سے کچھ سخت سوالات کیے ہیں۔ انہوں نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے اعداد و شمار بھی پیش کیے ہیں۔ پٹولے نے کہا کہ ریاست میں ووٹرز کی تعداد ریاست کی بالغ آبادی سے زیادہ کیسے ہو سکتی ہے؟ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں شامل تمام ووٹرز کے نام، پتے اور تصاویر کے ساتھ مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ الیکشن کمیشن نے اس مطالبے کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ شام 5 بجے کے بعد مہاراشٹر میں ووٹوں کی تعداد 76 لاکھ کیسے بڑھ گئی؟ یہ ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے، لیکن الیکشن کمیشن اس پر کوئی وضاحت دینے کے بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ انتخابات میں الیکشن کمیشن کا کردار غیر جانبدار ہونا چاہیے، لیکن مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں جو کچھ ہوا، وہ اس کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔ راہل گاندھی نے واضح طور پر اس مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے، تو اسے غیر جانبداری کا ثبوت دینا چاہیے اور کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دینا چاہیے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ بی جے پی کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اس معاملے میں الیکشن کمیشن کے وکیل بنے ہوئے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی دھاندلی نہیں ہوئی، جبکہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے سوالوں کے جوابات دینے کے بجائے الیکشن کمیشن نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

نانا پٹولے نے سوال کیا کہ اگر واقعی انتخابات شفاف اور منصفانہ طریقے سے کرائے گئے ہیں، تو پھر الیکشن کمیشن کو راہل گاندھی کے سوالوں کا جواب دینے میں کیا پریشانی ہے؟ آخر انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر کی عوام اب سب کچھ سمجھ چکی ہے۔ بی جے پی اتحاد نے صرف اقتدار حاصل کرنے کے لیے بہنوں کا سہارا لیا اور اب اقتدار میں آ کر انہیں دھوکہ دے رہی ہے۔ اسی طرح، انتخابات میں دھاندلی کے الزامات بھی مسلسل اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن حکومت اور الیکشن کمیشن دونوں خاموش ہیں۔ نانا پٹولے نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن واقعی آزاد اور غیر جانبدار ہے، تو اسے فوراً اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کر رہا، تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا الیکشن کمیشن بی جے پی کا کارکن بن چکا ہے؟

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading