انڈیگو کی بی جے پی کو الیکٹورل بانڈ کے ذریعے 56 کروڑ کی ادائیگی کی تحقیقات ضروری

انڈیگو بحران پر پرتھوی راج چوہان کا حکومت پر شدید حملہ، اجارہ داری توڑنے اور شہری ہوا بازی کے وزیر سے فوری استعفے کا مطالبہ

ممبئی: انڈیگو ایئرلائن کے بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والے بحران نے ہزاروں مسافروں کو شدید پریشانی سے دوچار کر دیا، جب کہ اس صورتحال نے ملک کے شہری ہوا بازی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی اجارہ داری، قواعد کی کھلی خلاف ورزی اور سرکاری نگرانی کی کمزوری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسی پس منظر میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے مرکز، شہری ہوابازی کی وزارت اور نجی ہوائی کمپنیوں پر سخت تنقید کی اور اس بحران کو حکومتی نااہلی اور ریگولیٹری اداروں کی کمزوری کی خطرناک علامت قرار دیا۔

ممبئی میں کانگریس کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ انڈیگو کا مسافر بحران نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے اور یہ سب DGCA اور مرکزی حکومت کی جانب سے ایئرلائن کمپنی کو دی جانے والی نرمی اور مسلسل ڈھیل کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ DGCA نے یکم جولائی 2024 سے نافذ ہونے والے جن قواعد کا اعلان کیا تھا، ان پر عمل نہ ہونے کے باعث انڈیگو سمیت چند نجی کمپنیوں کی اجارہ داری مزید بڑھی اور آج مسافروں کو اس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔

چوہان نے دعویٰ کیا کہ ہوابازی کے شعبے میں اجارہ داری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جہاں صرف دو کمپنیاں انڈیگو 65 فیصد اور ٹاٹا گروپ 30 فیصد شیئر کے ساتھ پورے ملک کے مسافر ٹریفک پر قابض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپیٹیشن کمیشن اس صورتحال کو روکنے میں پوری طرح ناکام رہا ہے، اس لیے اسے برطرف کر کے نیا اور بااختیار کمیشن تشکیل دیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے تجویز پیش کی کہ انڈیگو کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دونوں کا زیادہ سے زیادہ مارکیٹ شیئر 30 فیصد تک محدود کیا جائے تاکہ اجارہ داری کا خاتمہ ہو سکے۔

پرتھوی راج چوہان نے الزام عائد کیا کہ انڈیگو کے مالکان نے بی جے پی کو الیکٹورل بانڈز کے ذریعے 56 کروڑ روپے بطور چندہ دیے، جس کے DGCA کے فیصلوں سے تعلق کی جانچ لازمی ہے۔ چوہان نے مزید کہا کہ 25 نومبر 2025 کو اڈانی ڈیفنس نے ملک کی سب سے بڑی پائلٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ خریدی، جو آنے والے برسوں میں پائلٹ طلب میں اضافے کے حوالے سے ممکنہ اجارہ داری کے خطرات کو بڑھاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیرِ شہری ہوا بازی کے اس اعلان کے فوراً بعد کہ ملک کو آئندہ 15 برس میں 30 ہزار پائلٹ درکار ہوں گے، اڈانی گروپ کی یہ خریداری کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ بحران کے دوران مسافروں کو دگنی، تگنی قیمتوں پر ٹکٹس خریدنے پڑے اور اس مالی نقصان کے ازالے کے لیے حکومت کم از کم 1000 کروڑ روپے کا خصوصی ریلیف فنڈ قائم کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھوپال گیس سانحے کی طرح متاثرہ مسافروں کو معاوضہ فراہم کیا جائے تاکہ انہیں ہونے والے مالی اور ذہنی نقصان کی تلافی کی جاسکے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں سات اہم مطالبات بھی پیش کیے۔ مرکزی وزیرِ شہری ہوا بازی فوراً استعفیٰ دیں، DGCA کے ذمہ دار افسران کو برطرف کیا جائے، انڈگو کے سی ای او کو معطل کیا جائے، 15 روز میں رپورٹ پیش کرنے والی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کی جائے، کمپیٹیشن کمیشن کو تحلیل کرنے کے بعد نیا ادارہ تشکیل دیا جائے، انڈیگو کو تقسیم کر کے اجارہ داری ختم کی جائے، اور سابق وزیراعظم منموہن سنگھ حکومت کے دور میں تجویز کردہ سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے ڈھانچے کو نافذ کیا جائے۔

پرتھوی راج چوہان نے خبردار کیا کہ ہوابازی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی نجی اجارہ داری ملک کے مستقبل کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2004 میں ملک میں 10 ہوائی کمپنیاں فعال تھیں، لیکن آج صرف دو بڑی کمپنیاں باقی رہ گئی ہیں۔ چالیس کروڑ مسافروں کے ملک میں صرف دو کمپنیوں کی حکمرانی آنے والے برسوں میں مزید گمبھیر بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت نجی شعبے کے مکمل قبضے سے بچنے کے لیے اپنی ایک سرکاری ایئرلائن دوبارہ شروع کرے، تاکہ ملک کے مسافروں کو بہتر اور محفوظ متبادل فراہم ہو سکے۔

MPCC Urdu News 8 December 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading