ووٹ چوری کے خلاف کانگریس کا شدید احتجاج، دادر میں راستہ روکو تحریک
وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس الیکشن کمیشن کے دلال یا وکیل؟ سوال کمیشن سے کیے جاتے ہیں، جواب بی جے پی کیوں دیتی ہے؟
ممبئی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے بی جے پی پر الیکشن کمیشن کی مدد سے بڑے پیمانے پر ووٹ چوری کا الزام لگائے جانے کے بعد ملک بھر میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ راہل گاندھی نے یہ انکشاف باقاعدہ دستاویزات اور شواہد کے ساتھ کیا تھا۔ ان الزامات کے بعد مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں سڑکوں پر اتر کر سخت احتجاج کیا۔ ممبئی کے دادر علاقے میں منعقدہ راستہ روکو تحریک کے دوران کانگریس کارکنان نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ یہ احتجاج تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا، جس میں ریاستی کانگریس کے سینئر نائب صدر موہن جوشی، راجن بھوسلے، کشور کہنیرے، چیف ترجمان اتل لونڈھے، اننت گاڈگِل سمیت سیکڑوں کارکنان اور عہدیداران شریک ہوئے۔
اس احتجاج سے قبل تلک بھون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے انتخابی نظام پر سخت تنقید کی اور کہا کہ راہل گاندھی نے نہایت مدلل انداز میں انتخابی گھپلے کی پرتیں کھول کر رکھ دیں اور یہ واضح کیا کہ کس طرح جمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ سپکال نے کہا کہ جب اتنا بڑا انکشاف سامنے آ چکا ہے، تو حکومت کو فوری طور پر ایس آئی ٹی تشکیل دینی چاہیے تھی یا کسی ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج سے غیرجانبدارانہ انکوائری کروانی چاہیے تھی، لیکن الٹا راہل گاندھی سے ہی حلف نامہ مانگا جا رہا ہے، جو کہ نہ صرف مضحکہ خیز بلکہ غیر آئینی بھی ہے۔
سپکال نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے 1960 کے قواعد کے مطابق اگر کوئی شکایت یا اعتراض موصول ہوتا ہے تو قاعدہ 17، 18 اور 19 کے تحت فوراً تفتیش شروع کی جانی چاہیے، مگر تاحال کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ اس پر خاموشی خود بہت کچھ بیان کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی جانب سے الیکشن کمیشن کی ساکھ پر سوال اٹھانے کے بعد بی جے پی لیڈران نے ان پر نچلے درجے کی زبان استعمال کرتے ہوئے حملے تیز کر دیے ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کی زبان سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ الیکشن کمیشن کے دلال، وکیل یا ترجمان ہوں۔ ہرش وردھن سپکال نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی باتوں سے نہ صرف غرور جھلکتا ہے بلکہ غرور کی بدبو بھی آتی ہے۔ وہ چیف منسٹر نہیں بلکہ ’چِپ منسٹر‘ ہیں، جو ہر اس وقت بولتے ہیں جب الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھتے ہیں۔ سوالات الیکشن کمیشن سے کیے جاتے ہیں، لیکن جوابات بی جے پی دیتی ہے، آخر کیوں؟ گہری خاموشی اور جلد بازی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے‘۔
سپکال نے کہا کہ راہل گاندھی کے انکشافات سے الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کی پرتیں کھل رہی ہیں، جس کا خوف بی جے پی اور فڈنویس کے بیانات میں جھلکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کچھ بھی غلط نہیں تھا، تو پھر سچ سامنے آنے سے گھبراہٹ کیوں؟ بی جے پی کے اس اس سوال کے جواب میں کہ کانگریس نے پہلے اعتراض کیوں نہیں کیا؟ سپکال نے کہا کہ بی جے پی اس طرح کے سوالات اٹھا کر عوام کو گمراہ کرنا چاہتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس نے انتخابی عمل کے دوران اور بعد میں بھی کئی مرتبہ اعتراضات درج کرائے۔ شکست خوردہ امیدواروں نے متعلقہ اعلیٰ عدالتوں میں عرضیاں بھی دائر کیں اور الیکشن کمیشن کو ثبوت بھی پیش کیے گئے۔ لیکن ان تمام حقائق سے توجہ ہٹانے کے لیے بی جے پی علمی الجھنوں پر مبنی سیاست کر رہی ہے۔ سپکال نے اعلان کیا کہ ووٹ چوری کے خلاف مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی اب ریاست گیر احتجاجی مہم چلائے گی۔ مختلف ریلیوں، پیدل مارچ اور عوامی رابطہ یاترا کے ذریعے عوام کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے گا اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے یہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
MPCC Urdu News 8 August 25.docx