18سال سے زائد عمر کے لوگوں کوویکسین دینے سے انکار سے

مرکزی حکومت نے ملک کو کورونا کی کھائی میں ڈھکیل دیا ہے: نانا پٹولے

ممبئی: مہاراشٹر سمیت ملک بھر میں کورونا کے مریضوں کی بڑھتی تعداد نے تشویشناک صورت اختیار کرلی ہے۔ملک میں روزآنہ ایک لاکھ سے زائد کورونا سے متاثر ہورہے ہیں اور یہ بات اب واضح ہوچکی ہے کہ کورونا کے بڑھتے اثرات پر قابوپانے کے لیے ویکسی نیشن کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ اسی لیے کانگریس پارٹی نے ریاست میں کورونا ویکسین دینے کے لیے عمر کی حد میں نرمی کرتے ہوئے ریاست میں 18سال سے زائد تمام لوگوں کو کورونا ویکسین دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ملک میں ڈاکٹروں کی سب سے بڑی تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی وزیراعظم کو خط لکھ کر یہی مطالبہ کیا ہے۔ لیکن مرکزی حکومت نے یہ مطالبہ نامنظور کردیا ہے۔ 18سال سے زائد عمر کے تمام لوگوں کوویکسین دینے سے انکار کرکے مرکزی حکومت نے ملک کو کورونا کی کھائی ڈھکیل دیا ہے۔ یہ سخت تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کیا ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ مرکزی حکومت کی ہٹ دھرمی اور تمام لوگوں کو ویکسین نہ دینے کی پالیسی کی وجہ سے ملک کی صرف تین ریاستوں کے آبادی کے صرف ۵ فیصد تک ویکسین پہونچ سکا ہے جو انتہائی افسوسناک اور عوامی کی صحت کے نقطہئ نظر سے خطرناک ہے۔ ابھی تک صرف 8.30کروڑ لوگوں کو ہی ویکسین دیاجاسکا ہے۔ تمام لوگوں کو ویکسین دینے کے برخلاف صرف ترجیحی لوگوں کو ہی ویکسین دینے کے مرکزی حکومت کے موقف کا کوئی جواز نہیں ہے۔ جنہیں ضرورت ہو یا جن کی خواہش ہو ایسے تمام لوگوں کو ویکسین دیا جانا چاہیے۔ کورونا کی ویکسین پرائیویٹ اسپتالوں سمیت ہرجگہ بڑے پیمانے پر دستیاب کرایا جانا چاہیے۔ امریکہ سمیت دیگر ممالک نے بھی 18سال سے زائد عمر کے تمام لوگوں کو ویکسین دینا شروع کردیا ہے لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت اس معاملے میں ذرا بھی سنجیدہ نہیں ہے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ ملازمت، کاروبار یا دیگر ضروریات کی بناء پر نوجوان طبقہ گھروں سے باہر جاتا ہے جس کی وجہ سے ان میں کورونا سے متاثر ہونے کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہیں ویکسین کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ اگر کوووڈ سپریڈنگ گروپ کم کرتے ہوئے ہرڈ ایمونیٹی تیار کرنی ہے تو کم ازکم 60فیصد لوگوں کا ویکسی نیشن کرنا چاہیے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی 18سال سے زائد عمر کے تمام لوگوں کو ویکسین دینے کا موقف اختیار کیا ہے لیکن پلاننگ کمیشن کا موقف اس کے برخلاف ہے۔ اسرائیل سمیت دنیا کے کئی ممالک نے 18سال سے زائد عمر کے تمام لوگوں کو ویکسین دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن صرف بھارت سرکار نے اس بارے میں فیصلہ نہ کرتے ہوئے نوجوان طبقے کو کووڈ کے گڑھے میں ڈھکیل رہی ہے۔

مہاراشٹر میں ویکسینیشن زوروں پر ہے لیکن مرکز کی جانب سے ریاست کو ویکسین کی مناسب فراہمی نہیں ہو رہی ہے۔ مہاراشٹر سمیت کچھ ریاستوں میں ویکسین کا ذخیرہ صرف تین سے چار دن تک کے لئے ہی بچا ہوا ہے، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ 15 اپریل کے بعد ویکسین کی فراہمی کی جائے گی۔ ویکسینیشن کے لیے عمر کی حد میں نرمی کرتے ہوئے ریاست کو ویکسین کا وافر ذخیرہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مرکزی حکومت کو آکسیجن کی بھی وافر مقدار میں فراہمی کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ریمڈیسیور کی بھی حصولیابی آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ ناسک، شولاپور سیت ریاست کے دیگر علاقوں میں مریضوں کے اہلِ خانہ ریمڈیسیور کے لیے قطاریں لگارہے ہیں۔ اس انجیکشن کی قیمت عام آدمی کی پہونچ میں لایا جائے، ریمڈیسیور کی بلیک مارکیٹنگ کوروکتے ہوئے عام آدمی کے لیے اس کی حصولیابی آسان بنانے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے فوری اقدام کیے جانے کی ضرورت ہے۔ ناناپٹولے نے مزید کہا کہ اگر مرکز نے ویکسین کی مناسب فراہمی نہیں کی تو مرکزی حکومت وبی جے پی کو اس کے سنگین نتائج بھگتنے پریں گے۔