جبروطاقت کے زورپر بی جے پی حکومت کی کانگریس کی تحریک کچلنے کی کوشش

10

ہم عوام کے مسائل پر آوازاٹھاتے اوراحتجاج کرتے رہیں گے: ناناپٹولے

راہل گاندھی وپرینکاگاندھی کے ساتھ پولیس کے نارواسلوک کی مخالفت

مہنگائی، بیروزگاری وجی ایس ٹی کے خلاف کانگریس کا ریاست گیراحتجاج، ممبئی میں کانگریس کے اہم لیڈران کی شرکت

ممبئی: ایک جانب جہاں ملک کی عوام شدید مہنگائی سے جوجھ رہی ہے، مرکزی حکومت نے ضروریاتِ زندگی کی اشیاء پر جی ایس ٹی لگا کر غریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت کو مہنگائی نظر نہیں آ رہی ہے۔مرکزی حکومت پر یہ تنقید آج مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدرناناپٹولے نے کی ہے۔ وہ یہاں مہنگائی، جی ایس ٹی اوربیروزگاری کے خلاف کانگریس کے زیراہتمام ریاست گیر احتجاج کے موقع پر میڈیا سے بات کررہے تھے۔

واضح رہے کہ کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے کی قیادت میں جمعہ کو راج بھون گھیراؤ اور جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن پولیس نے ممبئی کے مختلف حصوں سے کانگریس لیڈروں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ پولس نے جمعرات کی رات سے ہی کانگریس کارکنوں اور کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا تھا۔ ممبئی اور اس کے اطراف سے 10 ہزار سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، بالا صاحب تھورات، اشوک چوہان، ورشا گائیکواڑ، سابق وزیر ریاستی ورکنگ صدرنسیم خان، چندرکانت ہنڈورے، ایم ایل اے امر راجورکر، وجاہت مرزا، ابھیجیت ونجاری ریاستی جنرل سکریٹری دیوآنند پوار، پرمود مورے کو ودھان بھون میں عین اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ راج بھون کا گھیراؤکرنے کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ جب کہ سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، سابق ریاستی صدر مانیک راؤ ٹھاکرے، سابق وزیر ڈاکٹر نتن راؤت، اسلم شیخ، ممبئی کانگریس کے صدر بھائی جگتاپ، ریاستی چیف ترجمان اتل لونڈھے، جنرل سکریٹری راجیش شرما کو مالابار ہل کمپلیکس میں گرفتار کیا گیا۔

احتجاج کے بعد گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ریاستی صدر ناناپٹولے نے کہا کہ جب کانگریس ملک بھر میں احتجاج کر رہی تھی، کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو دہلی میں پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پرینکا گاندھی کے ساتھ پولیس کا سلوک انتہائی قابل اعتراض اور قابل مذمت ہے۔ کانگریس پارٹی بی جے پی حکومت کے اس سیاسی ظلم کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ جمہوریت میں لوگوں کے سوال کرنا جرم نہیں ہے، لیکن نریندر مودی کی حکومت جمہوریت پر یقین نہیں رکھتی اور اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ناناپٹولے نے کہا کہ بے روزگاری کے اس دور میں مرکزی حکومت نے اگنی پتھ اسکیم کے ذریعے نوجوانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ جب کانگریس نے عوام کے ان سوالوں کا جواب حاصل کرنے کے لیے راج بھون کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کیا تو ریاست کی ای ڈی حکومت نے جمعرات کی رات سے ہی کانگریس لیڈروں اور کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ اس کے باوجود احتجاج کے لیے لوگ جمع ہوگئے جس کے بعدپولیس نے انہیں اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ احتجاج کے لیے ودھان بھون سے نکل رہے تھے۔ پٹولے نے کہا کہ ای ڈی حکومت نے اپنی طاقت اورجبر کے زور پر کانگریس کی تحریک کو کچلنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہم ایسی حرکتوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم عوام کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

احتجاج کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بالا صاحب تھورات نے کہا کہ ملک پر انگریزوں کی حکومت تھی تو اس وقت بھی احتجاج کرنا ممکن تھا لیکن اب جب کہ ملک میں جمہوریت ہے، ریاستی حکومت لوگوں کو احتجاج کرنے سے روک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے دودھ کے علاوہ مرکزی حکومت نے نمک اور آٹے جیسی ضروری اشیاء پر بھی جی ایس ٹی لگادیا ہے۔ تھورات نے کہا کہ حکومت مہنگائی کے معاملے پر جواب نہیں دینا چاہتی۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا ای ڈی کی حکومت میں احتجاج پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے؟

واضح رہے کہ کل مہاراشٹر کانگریس نے مہنگائی، بے روزگاری، جی ایس ٹی، اگنی پتھ اسکیم اور کسانوں کے مسائل پرریاست بھر میں احتجاج کیا اور مرکزو ریاست کی بی جے پی حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔