بی کے سی میں ہونے والی دسہرہ ریلی پرکروڑوں روپئے کے اخراجات

  1. ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری اتل لونڈھے کا ای ڈی وآئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ
  2. شندے گروپ کی دسہرہ ریلی کی بسوں کے لیے 10؍کروڑ روپئے کہاں سے آئے؟

ممبئی: دسہرہ ریلی میں لوگوں کی بھیڑ جمع کرنے کے لیے ایکناتھ شندے گروپ کی جانب سے ریاست کے مختلف حصوں سے ایس ٹی بسوں و پرائیویٹ بسوں سے لوگوں کولایاجارہا ہے۔میڈیا کی خبروں کے مطابق اس کے لیے ایس ٹی کارپوریشن کو 10؍کروڑ روپئے نقددیئے گئے ہیں جسے گننے کے لیے کارپوریشن کو دو دن لگ گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شندے گروپ کے پاس اتنی خطیر رقم کہاں سے آئی؟ یہ رقم انہیں کس نے دیا؟کیا اتنے بڑے مقدار میں نقد روپئے کا لین دین کیا جاسکتا ہے؟ کیا یہ منی لانڈرنگ نہیں ہے؟ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس دسہرہ ریلی پر ہونے والے اخراجات کی ای ڈی وانکم ٹیکس محکمہ کی جانب سے جانچ کی جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وچیف ترجمان اتل لونڈھے نے کیا ہے۔

اتل لونڈھے نے دسہرہ ریلی کے اخراجات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریلی میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ریاست سے بھر لوگوں کو بسوں کے ذریعے ممبئی لایا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دسہرہ ریلی کے لیے ایس ٹی بسوں کی بکنگ کرتے وقت شندے گروپ نے 10 کروڑ روپے نقد ادا کیے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ رقم شیوسینا پارٹی کے اکاؤنٹ سے ادا کی گئی ہے؟ اگر نہیں تو اتنی بڑی رقم آئی کہاں سے؟کس طرح 10 کروڑ روپئے کا نقد لین دین کیا گیا؟ کہاجارہا ہے کہ اس ریلی میں لوگوں کے لیے کھانوں کے دو لاکھ پیکٹ تیار کئے جارہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے بھی کروڑوں روپئے خرچ کیے گئے ہونگے۔ پھراس کے لیے یہ کروڑوں روپئے کی رقم کہاں سے آئی؟شندے کی پارٹی ابھی تک سرکاری طور پر رجسٹرڈ بھی نہیں ہوئی ہے تو پھریہ رقم کس کھاتے سے آئی؟ کیا یہ منی لانڈرنگ نہیں؟ اس کی تحقیق کئے جانے کی ضرورت ہے۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ شیوسینا ایم پی سنجے راؤت کو 50لاکھ روپئے کے لین دین کے معاملے میں ای ڈی نے منی لانڈرنگ کے الزام میں جیل میں ڈال دیا ہے۔سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج ہے اوروہ جیل میں ہیں۔ تو پھر کیا اس کی تحقیق نہیں ہونی چاہئے کہ بسوں کے لیے 10؍ کروڑ روپے کہاں سے آئے؟ جبکہ دیگر اخراجات کی بھی چھان بین ہونی چاہیے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ای ڈی اور محکمہ انکم ٹیکس کو اس کا نوٹس لینا چاہئے اوراس کی غیرجانبداری سے تحقیقات کرنی چاہئے۔ اگراس کی جانچ نہیں کی گئی تو یا اس معاملے میں ٹال مٹولے سے کام لیا گیا تو ہم کانگریس پارٹی کے طور پر ای ڈی وانکم ٹیکس محکمہ سے قانون کے مطابق شکایت درج کرائیں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading