اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ مناسب وقت پر تمام پارٹیوں سے بات چیت کے بعد لیا جائے گا: بالاصاحب تھورات
پارٹی میٹنگ میں سیاسی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال: بالاصاحب تھورات
مودی وشاہ کی تحریرکردہ اسکرپٹ کے مطابق مہاراشٹر میں سیاسی تخریب کاری: نانا پٹولے
ممبئی:مہاراشٹر میں ایک غیر آئینی حکومت برسراقتدار ہے اور شندے دھڑے کے 16 /ایم ایل ایز کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ ایسے میں مہاراشٹر میں ایک بار پھر توڑ پھوڑ کی سیاست کی جارہی ہے۔ بی جے پی کا اس طرح کا آپریشن لوٹس کسی کو بھی پسند نہیں آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرناٹک کے لوگوں نے بی جے پی کو گھر بیٹھا دیا ہے۔ مہاراشٹر میں پہلے ادھو ٹھاکرے اور اب شرد پوار کے کچھ ایم ایل اے چلے گئے ہیں، لیکن ان دونوں لیڈروں کو اب بھی عوامی حمایت حاصل ہے۔ ہم مہاوکاس اگھاڑی کے طور پر متحد ہیں اور پوری طاقت کے ساتھ بی جے پی کے خلاف لڑیں گے۔ یہ بات کرناٹک کے کابینی وزیر اور مہاراشٹر کانگریس کے انچارج ایچ کے پاٹل نے کہی ہے۔
منگل کو کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات نے مہاراشٹرا ودھان بھون میں ایک میٹنگ بلائی، جس میں پارٹی کے اسمبلی وقانون ساز کونسل کے تمام اراکین موجود تھے۔ اس میٹنگ میں کانگریس کے ریاستی انچارج ایکچ کے پاٹل، ریاستی کانگریس کے صدر ناناپٹولے، سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان، پرتھوی راج چوہان، کارگزارصدر نسیم خان، بسوراج پاٹل، کنال پاٹل، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری سمپت کمار، آشیش دووا اور کئی رہنما موجود تھے۔ میٹنگ کا آغاز آنجہانی رکن اسمبلی سریش عرف بالو دھانورکر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ہوا۔
میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایچ کے پاٹل نے کہا کہ ملک میں مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا ایک بڑا اتحاد وجود میں آچکا ہے۔ اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر بھارتیہ جنتا پارٹی گھبرا گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ اپنا غصہ نکالنے کے لیے دوسری پارٹیوں کو توڑرہی ہے۔ پارٹی کو توڑنے کے لیے ای ڈی، سی بی آئی جیسی تفتیشی ایجنسیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب مہاراشٹر میں تخریبی سیاست چل رہی ہے، کانگریس پارٹی متحد اور مضبوط ہے۔ اس اتحاد کے ذریعے ہم نے دکھایا ہے کہ پارٹی وفاداری کیا ہوتی ہے۔ پاٹل نے بتایا کہ اس میٹنگ میں 39 ایم ایل اے موجود تھے، جو ایم ایل اے اس میٹنگ میں موجود نہیں تھے، وہ ہمیں پہلے ہی بتا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی مہاراشٹر میں متحد ہے اور قومی صدر ملکارجن کھرگے، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں۔. پاٹل نے یہ بھی یقین ظاہر کیا کہ کانگریس پارٹی آئندہ انتخابات میں ریاست میں ایک بڑی طاقت بن کر ابھرے گی۔میڈیا کے نمائندو ں کے ذریعے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ایچ کے پاٹل نے کہا کہ اس میٹنگ میں اپوزیشن لیڈر کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے، مناسب وقت پر تمام پارٹیوں سے بات چیت کے بعد اس بارے میں فیصلہ لیا جائے گا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے بالاصاحب تھورات نے کہا کہ ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تمام ایم ایل ایز سے تبادلہ خیال کیا گیا اور سب نے اپنی رائے دی۔ ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال میں کانگریس پارٹی کی اگلی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے اس پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ریاستی انچارج ایچ کے پاٹل نے ہماری رہنمائی کی۔ اس میں بی جے پی کے خلاف مہا وکاس اگھاڑی کے طور پر لڑنے پر بحث ہوئی۔ کانگریس پارٹی آئندہ مانسون اجلاس میں بھی عوامی مسائل پر حکومت کے خلاف آواز اٹھائے گی۔
اس موقع پر ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی عوام کی توجہ اصل مسئلہ سے ہٹانے کے لیے غیرضروری مسائل کو اچھال رہی ہے، لیکن کانگریس پارٹی عوام کے سوالات اٹھا کر بی جے پی کا اصلی چہرہ سامنے لائے گی۔. انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں جو سیاسی ڈرامہ چل رہا ہے اس کا اسکرپٹ دہلی میں بیٹھ کر مودی-شاہ نے لکھا ہے۔ کچھ لوگوں کو ای ڈی اور سی بی آئی کا خوف دکھایا جا رہا ہے۔ بی جے پی کی بات نہ ماننے پر جیل جانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ مہاراشٹر کی موجودہ سیاست میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ لوگ یقین نہیں کر سکتے کہ شاہو، پھلے اور امبیڈکر کے مہاراشٹر میں ایسی گندی سیاست ہو رہی ہے۔
پٹولے نے کہاکانگریس ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ہمارا موقف ویٹ اینڈواچ کی ہے۔اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے بارے میں پٹولے نے کہا کہ جس پارٹی کے ارکان کی تعداد زیادہ ہو اسی کا اپوزیشن لیڈر بنتا ہے۔ این سی پی کے صدر شرد پوار نے اس سلسلے میں اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ این سی پی کی کل دو الگ الگ میٹنگیں ہو رہی ہیں، جس کے بعد ہم ادھو ٹھاکرے اور شرد پوار سے بات چیت کے بعد اگلی حکمت عملی طے کریں گے۔