پونے میں لڑکیوں پر غیر قانونی کارروائی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے: ہرش وردھن سپکال
ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کیوں؟ پولیس اہلکاروں پر ایٹروسٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے فوری گرفتار کیا جائے
ممبئی: 4 اگست 2025
ریاست کی پولیس نظام ہو کر بھی گویا نہیں ہے۔ مجرم کھلے عام گھوم رہے ہیں اور پولیس عام شہریوں پر ہی قانون کا ڈنڈا چلاتی ہے۔ پونے کے کوتھروڈ علاقے میں تین نوجوان لڑکیوں کے گھر میں زبردستی گھس کر انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں لینا، ذات پات پر مبنی گالیاں دینا اور مار پیٹ کرنا ایک انتہائی شرمناک اور قابل مذمت واقعہ ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ جن پولیس اہلکاروں نے یہ ظلم کیا، ان کے خلاف اب تک مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا؟ ان کے خلاف ایٹروسٹی ایکٹ کے تحت فوری مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے، یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ایک عورت کی مدد کرنے کے جرم میں ان تین سماجی کارکن لڑکیوں کے گھروں میں زبردستی گھس کر پولیس نے ظلم و زیادتی کی۔ سوال یہ ہے کہ ان بے لگام پولیس اہلکاروں کو تحفظ کون فراہم کر رہا ہے؟ کیا پونے کے پولیس کمشنر صرف کرسی پر بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہے ہیں؟ پولیس کس دباؤ میں کام کر رہی ہے؟ تین نوجوان لڑکیوں پر پولیس ظلم کرتی ہے اور اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی؟ ایف آئی آر درج کرنے میں کس مبارک گھڑی کا انتظار کیا جا رہا ہے؟ ریاست کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس اور پونے کے نگران وزیر کو اس معاملے میں ذاتی مداخلت کرتے ہوئے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
سپکال نے مزید کہا کہ پونے میں کھلے عام منشیات کی کالا بازاری ہو رہی ہے، ’کوئتا گینگ‘ کی دہشت گردی جاری ہے اور پولیس ان جرائم پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ خود وزیر اعلیٰ کہہ چکے ہیں کہ پونے میں دادا گیری بڑھ گئی ہے، مگر وہ بھی کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔ ایسے بے بس وزیر اعلیٰ کا کیا فائدہ؟ پونے پولیس کو چاہیے کہ وہ عوام پر قانون کے غلط استعمال کے بجائے شہر میں پھیلے غیر قانونی دھندوں اور بڑھتے جرائم پر لگام لگائے۔
MPCC Urdu News 4 August 25.docx