آشیش دیش مکھ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں، انہیں علاج کی ضرورت ہے: اتل لونڈھے
عوام کے ذریعے مسترد کیے جانے پر دیش مکھ کو پبلسٹی کے لیے بڑبڑانے کی عادت ہے
ممبئی:آشیش دیش مکھ اکثر کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی، ریاستی صدر نانا پٹولے پر بے بنیاد الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ دیشمکھ کے بیانات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے اور انہیں بہتر علاج کی ضرورت ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ انہیں جلد از جلد اپنا علاج کروانا چاہئے۔یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈے نے کہی ہیں۔
لونڈھے نے کہا کہ جمہوریت میں مختلف خیالات کا ہونا فطری بات ہے۔ کانگریس ایک ایسی پارٹی ہے جو جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔ اگر کسی کو اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے تو اسے پارٹی کے پلیٹ فارم پر اٹھانا چاہیے، لیکن آشیش دیش مکھ جان بوجھ کر میڈیا میں پارٹی کے سینئر لیڈروں کے بارے میں بیان دے کر ماحول کو خراب کر رہے ہیں۔اتل لونڈھے نے کہا کہ ریاست میں ’کھوکھا‘ کی زبان کس کے لیے استعمال کی جاتی ہے یہ سبھی جانتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آشیش دیش مکھ جس شخص کو امیر بتا رہے ہیں اس سے بھی سب واقف ہیں۔
اتل لونڈھے نے کہا کہ ریاستی کانگریس کے انتباہ کے باوجود آشیش دیشمکھ کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ عوام نے دیشمکھ کو مسترد کر دیا ہے۔ وہ ریاست میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے کسی کام میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی موجودگی درج کرانے کے لیے میڈیا کے سامنے پارٹی مخالف بیانات دے کر لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لونڈھے نے کہا کہ پارٹی کے سینئر لیڈر جلد ہی دیشمکھ کے مستقبل کے بارے میں مناسب اور درست فیصلہ لیں گے۔