ریاست کے سنگین مسائل پر فوری طور پر اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے: ناناپٹولے
ریاست میں ریزرویشن، خشک سالی، کسانوں کی خودکشی، بے روزگاری اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ سنگین ہوچکا ہے
مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈران پر مشتمل وفد کی ریاستی گورنر سے ملاقات
ممبئی:ریاست میں فی الوقت مراٹھا، دھنگرواوبی سی ریزرویشن کا مسئلہ سنگین رخ اختیار کرلیا ہے۔ ان طبقات میں حکومت کے تئیں زبردست ناراضگی اور غصہ ہے۔ ایک جانب ان طبقات کی جانب سے ریزرویشن کے مطالبات ہورہے ہیں تو دوسری جانب حکومتی سطح پر کوئی تسلی بخش اقدام ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ کم بارش ہونے کی وجہ سے ریاست کے بیشتر حصوں میں خشک سالی کی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ کسان مشکلات کے شکار ہیں، زرعی پیداوار کو مناسب قیمت نہیں مل رہی ہے، منشیات کے بڑے ذخیرے برآمدہورہے ہیں اور ریاست میں لاء اینڈآرڈر بری طرح بگڑچکا ہے۔ ایسی صورت میں اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلاکر ان سنگین مسائل کو حل کیا جانا نہایت ضروری ہے۔یہ مطالبہ آج یہاں ریاست کے گورنرمحترم سے کیا گیا ہے۔یہ اطلاع کانگریس کے ریاستی صدرناناپٹولے نے دی ہے۔
مہاوکاس اگھاڑی کے وفد نے آج راج بھون میں گورنر رمیش بیس سے ملاقات کرتے ہوئے میمورنڈم دیا۔اس وفد میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، سابق وزیر برائے محصول بالاصاحب تھورات،حزب اختلاف لیڈر وجے ودیٹی وار، سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اشوک چوہان، پرتھوی راج چوہان، این سی پی کے ریاستی صدر جینت پاٹل، قانون ساز کونسل میں اپوزیشن کے لیڈر امباداس دانوے، سابق وزیر نتن راؤت، راجیش ٹوپے، ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ، ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان، بسوراج پاٹل، پرنیتی شندے، شیوسینا کے ایم ایل اے رویندر وائیکر، ایم ایل اے سنیل پربھو، ریاستی جنرل سکریٹری پرمود مورے، دیوانند پوار اور دیگر موجود تھے۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مراٹھا برادری میں حکومت کے تئیں زبردست بے اطمینانی ہے جو دھماکہ خیز صورتحال میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ لیڈروں کے لیے ان کے حلقوں میں گھومنا مشکل ہو گیا ہے، امن و امان خطرے میں ہے اور مراٹھا برادری کے نوجوان خودکشی کر رہے ہیں۔ گورنر صاحب مرکزی اور ریاستی حکومت کے درمیان کڑی ہیں، انہیں ریزرویشن کے مسئلہ پر صدر اور وزیر اعظم سے بات کرنی چاہئے اور مراٹھایودھا منوج جرانگے پاٹل سے بھی بات کرنی چاہئے اور انہیں یقین دلانا چاہئے۔ ناناپٹولے نے کہا کہ جرانگے پاٹل کی صحت شدید خراب ہے، ان سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ثالثی کریں اور ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے مسئلہ حل کریں۔ اگر حکومت کوئی مثبت حل نکالے گی تو ہم سیاسی تعلقات کو ایک طرف رکھ کر تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن حکومت میں شامل جماعتیں ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں، تینوں کو اجتماعی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ چونکہ اس حکومت میں لوگ جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں اس لیے ریاستی حکومت پر کسی کو بھروسہ نہیں رہ گیاہے۔حکومت کو ریزرویشن قانون کے مسودے کو خصوصی اجلاس بلاکر پہلے لوگوں کے سامنے لاناچاہئے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ ریاست میں خشک سالی اور زراعت کے مسائل سنگین ہو چکے ہیں لیکن ریاستی حکومت کسانوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ ستمبر کے مہینے سے ریاست کے مختلف اضلاع میں ٹینکروں کے ذریعے پانی سپلائی کرنا پڑ رہا ہے اور ہر روز اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کم بارش کی وجہ سے ریاست کے 24 اضلاع میں خریف کی فصلیں برباد ہو گئی ہیں، جب کہ ربیع کے موسم کی حالت بھی زیادہ اچھی نہیں ہے۔ کسانوں کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے۔ دیوالی کا تہوار آٹھ دس دن باقی ہے اور کسان کے ہاتھ خالی ہیں۔ ریاستی حکومت خشک سالی کا اعلان کرے اور دیوالی کے لیے کسانوں کو فوری مدد کرے۔
ریاست میں امن و امان کی حالت تشویشناک ہے۔ ریاست میں منشیات کی بڑی مقدار ملی ہے اور نوجوانوں میں یہ زہر پھیلانے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔ ایسے میں ڈرگ مافیا کے ریکیٹ کو تباہ کرنا ضروری ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کی گمشدگی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ بے روزگاری کا مسئلہ بھی بہت بڑا ہے، ریاست میں لاکھوں نوجوان بے روزگار ہیں۔ ریاست میں صحت کی خدمات درہم برہم ہوچکی ہیں اور سرکاری اسپتال میں نوزائیدہ بچوں سمیت بڑی تعداد میں مریضوں کی موت ہورہی ہے۔ان تمام مسائل کے حل کے لیے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جاناچاہئے۔
