حکومتی اتحاد میں روز بروز سنگین الزامات، فڑنویس وکالت کے بجائے وزارت اعلیٰ کی ذمہ داری نبھائیں: نانا پٹولے

اجیت پوار کو کسانوں کی آنکھوں کے آنسو نظر نہیں آتے؟ فصل بیمہ گھوٹالے پر جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں؟

ممبئی: بی جے پی اتحاد کے اقتدار میں آنے کے بعد تینوں پارٹیوں میں اقتدار کی بندر بانٹ جاری ہے۔ حکومت میں تماشہ چل رہا ہے اور روز کسی نہ کسی وزیر پر سنگین الزامات عائد ہو رہے ہیں۔ سرمائی اجلاس میں بیڑ اور پربھنی کے واقعات پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے جواب سے ہی صورت حال واضح ہوگئی۔ وزیر اعلیٰ نے ویسا ہی کردار ادا کیا جیسے کوئی ماہر وکیل ادا کرتا ہے۔ فڑنویس نے اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک وکیل کے طور پر بات کی۔ دراصل دیویندر فڑنویس وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری احسن طریقے سے نہیں نبھا رہے ہیں، اسی وجہ سے ریاست میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ فڑنویس کو وکالت چھوڑ کر وزارت اعلیٰ کے عہدے کو انصاف دینا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ فڑنویس کو یہ مشورہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے دیا ہے۔

کانگریس کے دفتر تلک بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ حکومت کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔ حکومت کو اپنی ’لاڈلی بہن‘ کی فکر تو ہے، مگر جن 24 لاکھ نوجوانوں نے ملازمت کے لیے درخواستیں دی ہیں اور جن میں لاکھوں خواتین بھی شامل ہیں، ان کی کوئی فکر نہیں ہے۔ حکومت انہیں روزگار دینے میں ناکام رہی ہے۔ ان ’لاڈلی بہنوں‘ کے شوہر بھی کسان ہیں، جو روزانہ خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ سویا بین کی قیمت 6 ہزار روپے فی کوئنٹل دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن کسانوں کو 3 ہزار روپے بھی نہیں مل رہے۔ چاول، پیاز اور کپاس کی صورت حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ حکومت نے ’بھاؤنتر یوجنا‘ نافذ کرکے قیمت کے تفاوت کو پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس پر بھی کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ سچائی یہ ہے کہ یہ حکومت صرف عوام کو لوٹنے کے لیے اقتدار میں آئی ہے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی اتحاد کی حکومت میں 65 فیصد وزرا داغدار ہیں۔ ان کی بدعنوانیوں کی وجہ سے روزانہ مہاراشٹر کی ساکھ مجروح ہو رہی ہے۔ بیڑ ضلع میں بدعنوانی کے کیسز مسلسل بے نقاب ہو رہے ہیں، یہی حال پونے سمیت دیگر اضلاع کی بھی ہے۔ حکومتی اتحاد کے اراکین اسمبلی خود تسلیم کر رہے ہیں کہ بدعنوانی ہو رہی ہے۔ گزشتہ ڈھائی سال سے یہی سلسلہ جاری ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف خود وزیر نے کیا ہے کہ کسانوں کے لیے بنائی گئی اسکیموں میں 4 فیصد بدعنوانی ہو تی ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے اس بیان پر کہ ’بیڑ ضلع میں فصل بیمہ میں بدعنوانی نہیں ہوئی ہے‘ تبصرہ کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ جب حکومتی اتحاد کے رکن اسمبلی اور وزیر زراعت خود تسلیم کر چکے ہیں کہ فصل بیمہ میں بدعنوانی ہوئی ہے اور جب اس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے بھی کرپشن کی تصدیق کر دی ہے تو اجیت پوار کا یہ کہنا کہ کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی ہے، سراسر جھوٹ ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیوں جھوٹ بول رہے ہیں؟ انہیں سچ بولنا چاہیے۔ اجیت پوار کسانوں کی آنکھوں کے آنسو اور بیوہ خواتین کے ماتھے سے مٹتا ہوا سندور نہ بھولیں، ورنہ عوام انہیں معاف نہیں کرے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading