ووٹ چور حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیے بغیر خاموش نہیں بیٹھیں گے: ہرش وردھن سپکال
ملک میں وسط مدتی انتخابات کے امکان کا اشارہ
بی جے پی نے ووٹ چوری کر کے 132 ایم ایل اے جتوائے، اب عوام ہی سزا دیں گے: وجے وڈیٹی وار
ممبئی/ناگپور: مہاراشٹر کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام ناگپور ضلع کے کامٹی میں’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘کے ریاست گیر جلسے کا انعقاد ہوا جس میں کانگریس کے بڑے رہنماؤں نے بی جے پی پر ووٹ چوری کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا۔ اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مہاراشٹر میں ووٹ چوری کا پہلا تجربہ کامٹی میں ہوا، جہاں سے سابق بی جے پی ریاستی صدر چندر شیکھر باونکُلے جیتے۔ لہٰذا سب سے پہلے اسی چور کو سبق سکھایا جانا چاہیے۔
جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے مزید کہا کہ یہ جلسہ بی جے پی حکومت کے لیے انتباہ ہے کہ اگر جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ کیا تو عوام برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ ووٹ چور حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیے بغیر ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ کامٹی سے اٹھنے والا یہ نعرہ اب پورے ملک میں گونج رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں وسط مدتی انتخابات دور نہیں اور شیو، شاہو، پھولے اور امبیڈکر کے نظریات پر مبنی ایک نیا نظام ضرور قائم ہوگا۔
قانون ساز پارٹی کے لیڈر وجے وڈیٹی وار نے اس موقع پر بی جے پی اور آر ایس ایس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چندرپور ضلع کی ووٹر لسٹ میں ایک ہی گھر میں 56 بچوں کے نام درج ہیں اور 10 بائے 10 کے ایک کمرے میں 109 ووٹر دکھائے گئے ہیں۔ وڈیٹی وار نے کہا کہ بی جے پی نے ووٹ چوری کر کے مہاراشٹر میں 132 ایم ایل اے جتوائے ہیں۔ یہ بزدل لوگ ہیں جو ووٹ چوری کے بل بوتے پر اقتدار میں آئے۔ ان کے مطابق کامٹی سے ہی ووٹوں کا سودا شروع ہوا تھا جس کی جانب راہل گاندھی نے بھی اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت کے دوران ان ووٹ چوروں کو سزا ملنا ممکن نہیں لیکن اب عوام ہی انہیں سزا دیں گے اور آنے والے انتخابات میں ان کی اوقات دکھا دیں گے۔
قانون ساز کونسل میں کانگریس کے لیڈر ستیج بنٹی پاٹل نے کہا کہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے آئین کے ذریعے ہر ایک شہری کو ووٹ کا حق دیا تھا مگر آج اس حق پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کا ڈالا ہوا ووٹ اصل امیدوار کو جاتا بھی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے 7 اگست کو پریس کانفرنس میں ووٹ چوری کا معاملہ اٹھایا تھا جس کی بازگشت دنیا بھر میں سنی گئی۔ اب یہ لڑائی عوام تک لے جانا ہوگی اور سب کو اس میں شامل ہو کر راہل گاندھی کا ساتھ دینا ہوگا۔
سابق وزیر نسیم خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں مہا وکاس اگاڑی نے زبردست کامیابی حاصل کی تھی مگر صرف پانچ ماہ کے اندر تصویر بدل گئی اور اس عرصے میں 45 لاکھ ووٹرز فہرست میں بڑھا دیے گئے۔ ان کے مطابق ووٹنگ سے صرف چار دن پہلے تک آن لائن نئے ووٹرز کے نام شامل کیے گئے، جس کی شکایت کانگریس نے الیکشن کمیشن سے کی مگر کمیشن بی جے پی کے اشارے پر کام کر رہا ہے اور تسلی بخش جواب نہیں دے رہا۔ نسیم خان نے کہا کہ آج ملک کی جمہوریت اور آئین خطرے میں ہیں اور انہیں بچانے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سینئر لیڈر بالا صاحب تھورات، سابق وزیر سنیل کدار، یشومتی ٹھاکر، رکن پارلیمنٹ پربھا دھنورکر سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر ووٹ چوری میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت اور آئین پر ہونے والے اس حملے کے خلاف متحد ہو کر سخت جواب دیں۔ جلسے میں کانگریس کے کئی عہدیداران، اراکین اسمبلی اور ہزاروں کارکنان شریک ہوئے جنہوں نے پرجوش نعروں کے ذریعے’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘کے پیغام کو مزید تقویت دی۔