مہاراشٹر میں کانگریس کی نئی صف بندی اعظم شہاب

مہاراشٹر کی سیاست گزشتہ ایک دہائی سے جس جمود، اضطراب اور انتشار کا شکار رہی ہے، اس میں کانگریس پارٹی کا کردار ایک مستقل بحث کا موضوع رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کانگریس ریاست کی فطری حکمران پارٹی سمجھی جاتی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ اس مقام سے پھسلتی چلی گئی۔ اس صورت حال میں فیصلوں کا اختیار اس کے ہاتھ سے نکل کر اس کے اتحادیوں کے پاس چلا گیا۔ اتحاد کا حصہ بننا سیاسی مجبوری ہو سکتا ہے، لیکن جب اتحاد شناخت پر حاوی ہو جائے تو پارٹی محض ایک عدد بن کر رہ جاتی ہے۔ مہاراشٹر میں کانگریس طویل عرصے تک اسی کیفیت سے گزرتی رہی، جہاں شرد پوار کی سیاسی چھاپ اور ادھو ٹھاکرے کے اثر و رسوخ نے اس کی آزاد آواز کو کمزور کر دیا۔

اس پس منظر میں اگر آج مہاراشٹر کانگریس کی سیاست میں کسی نئی حرکت، نئے اعتماد اور نئی سمت کے آثار نظر آ رہے ہیں تو اس کا مرکز و محور ہرش وردھن سپکال کی قیادت ہے۔ انہوں نے نہ صرف پارٹی کے اندرونی ڈھانچے میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ بیرونی سیاسی دباؤ کے مقابل ایک واضح نظریاتی مؤقف بھی اختیار کیا ہے۔ ان کا سب سے نمایاں پیغام یہی ہے کہ اتحاد ضروری ہے، مگر خودسپردگی نہیں۔ یہ فرق بظاہر معمولی نظر آتا ہے، لیکن عملی سیاست میں یہی فرق کسی پارٹی کو زندہ یا بے جان بنا دیتا ہے۔

مہاوکاس اگھاڑی کے تجربے نے کانگریس کو اقتدار کی راہداریوں تک تو پہنچایا، مگر اس کی قیمت یہ ادا کرنا پڑی کہ وہ ایک خودمختار سیاسی قوت کے بجائے شراکت دار بن کر رہ گئی۔ فیصلہ سازی میں اس کا وزن کم محسوس ہوا اور زمینی سطح پر کارکنوں میں یہ تاثر گہرا ہوتا گیا کہ پارٹی کی سیاست دوسروں کے اشاروں پر چل رہی ہے۔ یہی وہ احساس تھا جس نے کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے کو اندر سے کمزور کیا اور ووٹر کے ذہن میں بھی پارٹی کی شبیہ ایک محتاج اتحادی کی بننے لگی۔

اسی دوران مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اور منظرنامہ ابھرا، جہاں ایک طرف ٹھاکرے برادران کے درمیان مفاہمت کی خبریں گردش کرنے لگیں اور دوسری جانب شرد پوار اور اجیت پوار کے درمیان بعض مقامات پر سیاسی قربت کے اشارے ملنے لگے۔ اس پوری سیاسی بساط میں کانگریس کو ایک ایسے مہرے کی طرح دیکھا جانے لگا جسے آسانی سے کنارے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہرش وردھن سپکال نے اسی نازک لمحے میں ایک مختلف راستہ چننے کا فیصلہ کیا۔ ایسا راستہ جو وقتی فائدے سے زیادہ طویل المدتی سیاسی احیا پر مرکوز ہے۔

راشٹریہ سماج پارٹی اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے ساتھ اتحاد اسی نئی سوچ کی عملی شکل ہے۔ یہ محض نشستوں کی تقسیم یا انتخابی حساب کتاب کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک گہرا نظریاتی پیغام بھی ہے۔ یہ فیصلہ دراصل شردپوار کی موقع پرستی کی سیاست اور ٹھاکرے براداران کی فرقہ پرستانہ و علاقائیت پر گرد گھومتی سیاست کے خلاف ایک خاموش مگر مضبوط اعلان ہے۔ کانگریس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ صرف چند طاقتور چہروں کے گرد گھومنے والی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتی بلکہ سماج کے مختلف طبقات کو ایک نظریاتی دھارے میں جوڑنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس نئی سیاسی سمت کی سب سے اہم اور بامعنی جہت یہ ہے کہ یہ مراٹھا، او بی سی، دلتوں اور مسلمانوں کو ایک مشترکہ سیاسی بیانیے میں سمو نے کی کوشش کرتی ہے۔ مہاراشٹر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہی طبقات ریاست کی ترقی پسند سیاست کی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں۔ مگر حالیہ برسوں میں یہ طبقے خود کو سیاسی طور پر بے وزن، منتشر اور بے آواز محسوس کرنے لگے تھے۔ کہیں انہیں شناخت کی بنیاد پر بانٹا گیا، کہیں نمائندگی سے محروم رکھا گیا اور کہیں صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا۔ خاص طور پر مسلمانوں کے لیے یہ تبدیلی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک ایسا سماج جو برسوں سے سیکولر سیاست کا فطری حامی رہا، حالیہ دور میں خود کو سیاسی تنہائی کا شکار محسوس کر رہا تھا۔ کانگریس کی نئی حکمت عملی مسلم سماج کو محض ہمدردی کے نعروں سے نہیں بلکہ عملی شراکت داری کے ذریعے اعتماد دینے کی کوشش ہے۔

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ ساری مشق صرف آنے والے انتخاب جیتنے تک محدود نہیں دکھائی دیتی۔ ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں کانگریس جس سیاست کی بات کر رہی ہے، اس میں آئینی اقدار، جمہوری مزاج، سیکولرازم اور سماجی برابری کو محض نعرہ نہیں بلکہ سیاسی بنیاد بنایا جا رہا ہے۔ یہ راستہ مشکل ضرور ہے، کیونکہ فوری کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ دیرپا سیاست ہمیشہ نظریے کے سہارے ہی زندہ رہتی ہے۔

مہاراشٹر آج ایک بار پھر ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف طاقت، دولت اور شناخت کی سیاست ہے اور دوسری طرف نظریہ، مساوات اور جمہوری قدریں۔ ایسے میں کانگریس کی جانب سے اپنی آزاد شناخت کی بازیافت کی یہ کوشش وقتی ہلچل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سیاسی تجربہ معلوم ہوتی ہے۔ یہ تجربہ کتنا کامیاب ہوتا ہے، اس کا فیصلہ وقت کرے گا، مگر اتنا طے ہے کہ کانگریس اب محض دباؤ میں سانس لینے والی پارٹی نہیں رہنا چاہتی۔

اگر یہ سمت برقرار رہی، اگر سماجی طبقات کے ساتھ مکالمہ محض انتخابی ضرورت تک محدود نہ رہا اور اگر پارٹی اپنی تنظیم کو نظریے کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہو گئی، تو مہاراشٹر کی سیاست میں کانگریس ایک بار پھر ایک مؤثر، خودمختار اور فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ یہی اس نئے سیاسی اعتماد کا اصل امتحان ہے اور شاید اسی میں کانگریس کے مستقبل کی کنجی بھی پوشیدہ ہے۔

مہاراشٹر میں کانگریس کی نئی صف بندی.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading