جیسے جیسے انڈیا اتحاد مضبوط ہو رہی ہے، بی جے پی کے پیٹ کا مروڑ تیز ہوتا جارہا ہے
کیا کوئی لیڈر اتحاد کا فیصلہ کسی صحافی کے سامنے کرے گا؟
ممبئی:ملک کی جمہوریت مشکل دور سے گزر رہی ہے، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کا دیا ہوا آئین خطرے میں ہے، اس پس منظر میں قومی سطح پر انڈیا اتحاد تشکیل پارہی ہے جبکہ مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی مضبوط اور متحد ہے۔ اس اتحاد میں ونچت بہوجن اگھاڑی کے شامل ہونے کے خوف سے بی جے پی کے پیٹ میں مروڑاٹھنے لگاہے۔ اس لیے کچھ کنٹریکٹ یافتہ صحافی گمراہ کن خبریں پھیلانے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کہی ہیں۔
اس ضمن میں بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ ایک صحافی نے جان بوجھ کر ونچیت بہوجن اگھاڑی کو انڈیااتحاد میں شامل کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلائی ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی صحافی آئے اور یہ کہہ کر چلا جائے کہ میں نے ایسی گفتگو سنی ہے؟ کیا ایسا صحافی وہاں بیٹھ سکتا ہے جب اتحادکے حوالے سے اہم بحث چل رہی ہو؟ یہ ایک سادہ سا سوال ہے۔ اور کیا کوئی لیڈر کسی صحافی کے سامنے اتحاد کے حوالے سے کوئی اہم گفتگو کرے گا؟ ایسے سازشی صحافیوں کو اپنا کنٹریکٹ کا کاروبار ترک کردینا چاہئے۔ لونڈھے نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی چاہے جتنے صحافیوں کو کٹنریکٹ دیدے، اس کی شکست یقینی ہے۔ اس لیے اس طرح کی کسی کنٹریکٹ بازی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔