MPCC Urdu News 28 October 23

پی ایم فصل بیمہ اسکیم مودی کے دوستوں کوفائدہ پہنچانے کے لیے ہے: ناناپٹولے

بی جے پی کسانوں کی طرح بیروزگاروں کے بھی زخموں پر نمک چھڑک رہی ہے

ممبئی/جلگاؤں:ریاست کی بی جے پی حکومت اس بات کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے کہ اس نے کسانوں کے لیے ایک روپے کی فصل بیمہ اسکیم شروع کی ہے، لیکن صورت حال بالکل اس کے برعکس ہے۔ ریاستی حکومت کسانوں کا پریمیم انشورنس کمپنیوں کو ادا کرتی ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں انشورنس کمپنیوں کو جو پیسہ دیتی ہیں وہ عوام کا پیسہ ہے اور حکومت نے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کے لیے ہزاروں کروڑ روپے ادا کیے ہیں۔ آج ریاست میں خشک سالی کی صورتحال ہے۔ ریاستی حکومت نے انشورنس کمپنیوں کو ایک خط بھیج کر کسانوں کو سویا بین کے معاوضے کا 25 فیصد ادا کرنے کو کہا تھا، لیکن انشورنس کمپنیوں نے اس خط کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ انشورنس کمپنیاں حکومت کے احکامات پر عمل تک نہیں کر رہی ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی جس پی ایم فصل بیمہ یوجنا پر اپنا سینہ پیٹ کر لہولہان کررہی ہے، وہ کسانوں کے لیے نہیں بلکہ وزیراعظم مودی کے دوستوں کوفائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔ وہ یہاں جلگاؤں ضلع کے دورے کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جلگاؤں کے علاقے میں کیلا اور کپاس کی بڑے پمانے پر کھیتی ہوتی ہے لیکن یہاں کا کسان اس وقت بڑی مشکلوں میں ہیں۔انہیں کیلے کی صحیح قیمت نہیں مل رہی ہے، فصل کوروک لگ جارہاہے اور وہ بربادہوجارہی ہے۔یہاں کے کسانوں نے اس معاملے پر احتجاج بھی کیا لیکن بی جے پی حکومت نے ان کے احتجاج کو نظر انداز کر دیا۔ کانگریس پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فوری طور پر اس مسئلہ پر غور کرے اور کسانوں کو مدد فراہم کرے۔ناناپٹولے نے کہا کہ کسانوں کے مسائل کو لے کر کانگریس پارٹی آئندہ پندرہ دن میں ریاست کے ہر تعلقہ اور ضلع میں احتجاج کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی 2014 میں کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے تھے لیکن گزشتہ 10 سالوں میں کسانوں کی آمدنی دوگنی تونہیں ہوئی ہے البتہ ان کی خودکشی میں دس گنا اضافہ ضرور ہوگیا ہے۔ اگر کسانوں کو ان کی زرعی پیداوار کی مناسب قیمت مل جاتی تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔پٹولے نے کہا کہ پیاز کے بازار میں آتے ہی مودی سرکار نے اس پر40 فیصد ایکسپورٹ ٹیکس لگا کر کسانوں کے ساتھ ناانصافی کی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت فوری طور پر خشک سالی کا اعلان کر ے اور کسانوں کو مدد فراہم کرے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے کسانوں کی طرح بے روزگاروں کے زخموں پربھی نمک چھڑکا ہے۔ایسی صورت میں جب تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان بری طرح بیروزگاری کے شکار ہیں، ایک وزیر کھلے عام کہتا ہے کہ بے روزگاری نہیں ہے۔یہ نوجوانوں کی توہین ہے لیکن بی جے پی کو نوجوانوں کے مفاد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پٹولے نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا لیکن دوسری جانب نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنا کران کی زندگیوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔آج ریاست میں منشیات کا سیاہ کاروبار زوروں پر ہے۔

’میں پھر آؤں گا..‘

نائب وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کے’میں پھر آؤں گا‘ والے ٹوویٹ کا جواب دیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ جس طرح اس کلپ کو ایک گھنٹے کے اندر ڈیلیٹ کر دیا گیا،اسی طرح فڈنویس اور بی جے پی بھی اب عوام کے ذہنوں سے ڈیلیٹ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں سوشل میڈیا کی طاقت بہت بڑھ گئی ہے۔ فڈنویس کی پوسٹ پرلوگوں کا ردعمل دیکھیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اب بی جے پی کو واپسی کا کوئی چانس نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر نوجوانوں نے بھی کنٹریکٹ بھرتی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جس کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا۔ نانا پٹولے نے کہا کہ لوگ سمجھ چکے ہیں کہ بی جے پی جھوٹی پارٹی ہے، اس لیے اب اس پر کوئی بھروسہ نہیں کرتا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading