بیلٹ پیپر پر انتخابات کروانے کے لیے جلد ہی راہل گاندھی کی قیادت میں ملک گیر یاترا شروع ہوگی
اتحاد کے باوجود حکومت سازی میں تاخیر، ‘دوست’ کے فیصلے کے بعد ہی وزیراعلیٰ کا اعلان ہوگا
ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابی نتائج پر کئی لوگوں کو حیرت ہو رہی ہے۔ عوامی سطح پر یہ احساس پایا جا رہا ہے کہ نتائج میں شفافیت نہیں۔ آئین نے ہر شہری کو ووٹ کا حق دیا ہے، لیکن عوام کو ایسا لگ رہا ہے کہ ان کا دیا ہوا ووٹ کسی اور کے کھاتے میں جا رہا ہے۔ کانگریس نے عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے بیلٹ پیپر پر انتخابات کا مطالبہ کیا ہے اور اس کے لیے ریاست گیر دستخطی مہم کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ درخواستیں صدر جمہوریہ، وزیراعظم، چیف جسٹس، اور الیکشن کمیشن کو بھیجی جائیں گی۔ یہ بات مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے کہی۔
تلک بھون میں کانگریس کے نومنتخب اراکین اسمبلی کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں نانا پٹولے، پرتھوی راج چوہان، بالاصاحب تھورات، وجے وڈیٹی وار، ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن نسیم خان، مظفر حسین، کنال پاٹل، ڈاکٹر نتن راؤت، امت دیشمکھ، اسلم شیخ، امین پٹیل، رویندر چوہان، کمار کیتکر، نانا گاونڈے اور پرمود مورے سمیت دیگر اہم لیڈران شریک ہوئے۔
میٹنگ کے بعد نانا پٹولے نے کہا کہ کانگریس نے یوم آئین کے موقع پر دہلی میں ایک تقریب میں بیلٹ پیپر پر انتخابات کے لیے عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جلد ہی مہاراشٹر میں اس حوالے سے دستخطی مہم کا آغاز ہوگا اور لاکھوں درخواستیں صدر جمہوریہ، وزیراعظم، چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کو بھیجی جائیں گی۔ بھارت جوڑو یاترا کو مہاراشٹر میں زبردست عوامی حمایت ملی تھی اور اب راہل گاندھی کی قیادت میں بیلٹ پیپر کے لیے ہونے والی یاترا کو بھی بھرپور پذیرائی ملے گی۔ نانا پٹولے نے کہا کہ جمہوریت کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کانگریس نے آزادی کی جنگ لڑی ہے، اور جب عوامی جذبات ابھرتے ہیں، تو بڑی بڑی حکومتیں ختم ہو سکتی ہیں۔
بی جے پی اتحاد کو بھاری اکثریت ملنے کے باوجود حکومت سازی میں تاخیر پر بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ریاست میں مسائل بڑھ رہے ہیں، لیکن اتحاد عوام کے مسائل کے بجائے ‘دوست’ کے حکم کا انتظار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ڈھائی سال میں مہاراشٹر کے وسائل فروخت ہو چکے ہیں اور اب بھی یہی صورتحال جاری رہے گی۔
میٹنگ میں یہ تجویز بھی منظور کی گئی کہ کانگریس قانون ساز پارٹی کے رہنما اور دیگر عہدوں کا تعین کرنے کا اختیار کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے کو دیا جائے۔ اس تجویز کو تمام اراکین اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ آخر میں نانا پٹولے نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ای وی ایم کے حوالے سے دیے گئے فیصلے میں واضح طور پر قانونی نکات بیان کیے جانے چاہیے تھے۔ تاہم، عدالت کے فیصلے پر زیادہ بات کرنا مناسب نہیں۔ کل 28 نومبر کو دوپہر 1 بجے تلک بھون دادر میں کانگریس اسمبلی امیدواروں کی ایک اور میٹنگ منعقد ہوگی۔