منوج شندے نے شیوسینا (شندے گروپ) میں شمولیت اختیار کی تھانے می ں کانگریس کے لیے سیاسی نقصان ثابت ہوسکتا ہے

منوج شندے نے شیوسینا (شندے گروپ) میں شمولیت اختیار کی
تھانے میں کانگریس کے لیے سیاسی نقصان ثابت ہوسکتا ہے
تھانے (آفتاب شیخ)
کانگریس کے سینئر رہنما اور مہاراشٹر کے سیکریٹری منوج شندے نے شیوسینا (شندے گروپ) میں شمولیت اختیار کر لی، جس سے تھانے شہر کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ منوج شندے تھانے شہر کانگریس کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں اور مقامی سطح پر ایک متحرک اور مقبول سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اور حال ہی میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں کوپری پانچ پاکھاڑی اسمبلی حلقہ سے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے سامنے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن بھی لڑا اور الیکشن نتائج کے ظاہر ہونے کے دوسرے ہی دن ایکناتھ شندے کی شیوسینا میں شمولیت اختیار کرلی۔
منوج شندے کی شمولیت کی تقریب میں شیوسینا (شندے گروپ) کے اہم رہنما اور کارکنان نے خصوصی طور پر ایکناتھ شندے کی اہلیہ لتا شندے نے شرکت کی۔ اس موقع پر منوج شندے نے کہا، "میں عوام کی خدمت اور تھانے شہر کی ترقی کے لیے شیوسینا (شندے گروپ) میں شامل ہوا ہوں۔ کانگریس میں میرے تجربات اچھے رہے، لیکن شیوسینا میں شامل ہو کر میں عوام کے مسائل کو مزید مؤثر طریقے سے حل کر سکوں گا۔
منوج شندے کی شیوسینا میں شمولیت کانگریس کے لیے بڑا دھچکا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف کانگریس کے ایک سینئر رہنما تھے بلکہ تھانے میں ان کی عوامی مقبولیت بھی کافی تھی۔ مقامی سیاسی ماہرین کے مطابق، ان کی شمولیت شیوسینا (شندے گروپ) کے لیے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں ایک مضبوط ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔
حال ہی میں، منوج شندے نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور 2676 ووٹ حاصل کیے، جو ان کی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے اس فیصلے سے کانگریس کو تھانے شہر میں اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔
کانگریس کے مقامی رہنماؤں نے منوج شندے کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایک سینئر کانگریس رہنما نے کہا، "منوج شندے کا پارٹی چھوڑنا کانگریس کے لیے نقصان دہ ضرور ہے، لیکن ہم اپنی تنظیم کو مزید مضبوط کریں گے اور آئندہ انتخابات میں بہتر نتائج حاصل کریں گے۔"
منوج شندے کی شیوسینا (شندے گروپ) میں شمولیت نہ صرف تھانے شہر بلکہ مہاراشٹر کی سیاست پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ ان کی واگلے اسٹیٹ علاقہ میں عوامی حمایت اور تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ سیاسی منظرنامہ مزید دلچسپ ہوگا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading