تمام کام چھوڑ کر پریشان حال کسانوں کی فوری مددکریں: ناناپٹولے
ریاستی کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے کا ریاستی حکومت سے مطالبہ
بی جے پی حکومت کے پاس اشتہارات اور فضول خرچی کے لیے پیسہ ہے، لیکن کسانوں کودینے کے لیے کیوں نہیں؟
شندے کمیٹی میں کچھ گڑبڑ ہے، اسی لیے سینئر وزیر نے اس پر سوال اٹھائے ہیں
ممبئی:بے موسم بارش ودیگر قدرتی آفات کی وجہ سے ریاست کے کسان سخت پریشانی میں ہیں۔ وہ بی جے پی حکومت سے مدد کی التجا کر رہے ہیں مگر حکومت کو کسانوں کا درد نظر نہیں آرہا ہے۔ بی جے پی حکومت کی وجہ سے کسان اپنے اعضاء تک بیچنے پر مجبور ہورہے ہیں لیکن مہاراشٹر حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔ ریاست کے کسان ممبئی میں سرکارکے دربار سے مدد کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے مرکزی حکومت سے 2500 کروڑ روپے مانگے ہیں، لیکن حکومت کے پاس اشتہارات اور تقریبات پر کروڑوں روپے ضائع کرنے کے پیسے ہیں لیکن کسانوں کو دینے کے لیے نہیں ہیں۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کے اس رویہ کو لے کر کسانوں میں کافی ناراضگی ہے اور وہ مناسب وقت آنے پر اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔
تلک بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جہاں خشک سالی نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے وہیں گزشتہ دو دنوں میں بے موسم بارش سے فصلوں کو ایک بار پھر بھاری نقصان پہنچا ہے۔ اس سال فصلوں کے دونوں سیزن تباہ ہونے سے کسان مایوس ہیں۔ کئی علاقوں میں حالت خراب ہونے کے بعد متاثرہ اضلاع کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن بی جے پی حکومت اس پر سیاست کر رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پریشان حال کسانوں کی مدد کرے اور انہیں بحران سے نکالے، لیکن اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی حکومت کسان مخالف ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ آنے والے اسمبلی اجلاس میں کانگریس پارٹی حکومت سے سوال کرتے ہوئے کسانوں کی مدد کرنے کا مطالبہ زوردار طریقے سے اٹھائے گی۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کسانوں پر زور دیا ہے کہ وہ کوئی انتہائی قدم نہ اٹھائیں، کانگریس پارٹی ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔
شندے کمیٹی پر خود سینئر وزیر نے اعتراض کیا تھا
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے مراٹھا ریزرویشن معاملے پر شندے کمیٹی بنائی ہے، لیکن حکومت کے ہی ایک سینئر وزیر اس کمیٹی پر کھلے عام اعتراض کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ تو گڑبڑ ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پہلے سے ہی نرگوڈے کمیٹی کام کر رہی تھی تو شندے کمیٹی بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ سپریم کورٹ نے مراٹھا ریزرویشن پر گائیکواڑ کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاست کی سہ پارٹی حکومت نے ریزرویشن کا کھیل رچایا ہے۔ کیا حکومت کو لگتا ہے کہ مراٹھا ریزرویشن کا مسئلہ آسان ہے؟ ایسا سوال اٹھا کر حکومت جان بوجھ کر مراٹھا-او بی سی تنازعہ کو ہوا دے رہی ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے خطرناک ثابت ہونے والا ہے۔ بی جے پی حکومت کو ریزرویشن کے معاملے پر واضح اور ٹھوس موقف اختیار کرنا چاہیے اور ذات کی بنیاد پرمردم شماری کرانی چاہیے۔ اگر بہار اور چھتیس گڑھ کی حکومتیں ذات پرمبنی مردم شماری کر سکتی ہیں تو مہاراشٹر کی حکومت کیوں نہیں کر سکتی۔ اس حکومت کو یہ جواب ریاست کے عوام کو دینا چاہیے۔