ممبئی: مہاراشٹر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔ کورونا وبا کی چیٹ میں مہاراشٹر ایک بار پھر آرہا ہے۔ ایسی صورت میں ٹیکہ کاری مہم بڑے پیمانے پر چلانے کی ضرورت ہے۔ گوکہ فی الوقت ویکسی نیشن تیزرفتاری سے جاری ہے مگر اسے مکمل ہونے میں 12سال لگ جائیں گے۔ ٹیکہ

کاری کا پروگرام بڑے پیمانے پر روب عمل لانے کے لیے ٹیکے کی فراہمی بھی اسی کے مطابق ہونی ضروری ہے، لیکن ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور نریندرمودی کو پاکستان ودیگر ممالک کو کورونا ویکسین فراہم کررہے ہیں۔ کورونا کی وبا کی روک تھام کے لیے مرکز کی مدد لازمی ہے مگر

مہاراشٹر کو ٹیکہ کی فراہمی میں قصداً ٹال مٹول کیا جارہا ہے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ مرکزمیں جب کانگریس کی حکومت تھی تو اس نے وباؤں کا مقابلہ بہت ہی مہارت سے کیا تھا۔ بس اسٹینڈس جیسے عوامی مقامات پر ویکسین دی گئیں۔ ویکسینشن کی بڑے پمانے پر مہم سے اس وقت اس وبا کو قابو پانے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ لیکن فی الوقت مرکزی حکومت ایسا کرتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ناگپور میں بھی کورونا کے مریضوں کی بڑتھی تعداد باعث تشویش ہے۔ وہاں کے نگراں وزیر نے اس کے بارے میں ضروری معلومات دی ہیں اور انتظامیہ بھی اپنا کام بخوبی انجام دے رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ناگپور کے آس پاس کے علاقوں میں ناگپور کے مقابلے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد کم ہے تو پھر ناگپور میں کورونا کے مریض کیوں بڑھ رہے ہیں؟۔

ناناپٹولے نے اس موقع پر رشمی شکلا وپرمویر سنگھ کے معاملے میں بھی بات کی اور کہا کہ افسران کو کسی بھی پارٹی کی کٹھ پتلی نہیں بننا چاہیے۔ انہیں عوام کو انصاف دلانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

اگر افسران کسی پارٹی کے لیے وقف ہوکر کام کرنے لگیں تو یہ نہ صرف جمہوریت بلکہ ملک کے انتظامی امور کے لیے بھی خطرناک ہے۔ دیوندرفڈنویس نے پرمویر سنگھ و رشمی شکلا معاملے میں جوالزامات عائد کیے ہیں وہ بے بنیاد ہیں۔ بی جے پی وفڈنویس کا رویہ یہ ہے کہ جھوٹ بول اورزور سے بول۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاہے سوشانت سنگھ کا معاملہ ہو یا پھر پرمویر سنگھ کا معاملہ ہو بی جے پی نے مہاراشٹر کو بدنام ہی کرنے کی کوشش کی ہے۔