مہا یوتی حکومت نے مہاراشٹر کو قرض کے پہاڑ کے نیچے دبا دیا ہے، ریاست پر 2.5 لاکھ کروڑ کا قرض

  • وزیر اعلیٰ کے تحت ایم ایم آر ڈی اے کو کیسے نقصان ہوا؟، نانا پٹولے کا سوال

ممبئی: ریاست کی بدعنوان مہایوتی حکومت نے مہاراشٹر کو قرض کے پہاڑ کے نیچے دبا دیا ہے۔ ترقی کے نام پر بدعنوانی کے ذریعے صرف پیسہ کمانے کے لیے قرض لیے جا رہے ہیں۔ ورلڈ بینک سمیت دیگر بینکوں سے تقریباً ڈھائی لاکھ کروڑ روپے کا قرض لے کر ریاست کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے۔ ایم ایم آر ڈی اے جیسا محکمہ جو منافع میں تھا اب خسارے میں ہے۔ حیرت یہ ہے یہ محکمہ وزیر اعلیٰ کے ماتحت ہے اس کے باوجود خسارے میں چل رہا ہے۔ یہ تمام سوالات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے اٹھائے ہیں۔

اسمبلی کے مانسون اجلاس کے پہلے دن حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ اگر ہم مہاراشٹر اور اتر پردیش کا موازنہ کریں تو اتر پردیش حکومت بھی اسی طرح قرض لے کر سڑکوں کی تعمیر کر رہی ہے۔ لیکن اگر ہم مہاراشٹر کے سڑک پروجیکٹ بجٹ کو دیکھیں تو اس میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ان سڑکوں پر کام کا معیار بھی خراب ہے۔ سب نے دیکھا ہے کہ اٹل پل میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ 18000 کروڑ روپے کی لاگت سے بنے اس روڈ دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ اس سے سڑک کی خراب کوالٹی ظاہر ہوتی ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی کی پچھلی حکومت میں 40 فیصد کمیشن کا راج تھا لیکن اب مہاراشٹر کی مخلوط حکومت میں 60 فیصد کمیشن کا کھیل چل رہا ہے۔

نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ تلنگانہ کی طرح مہاراشٹر کے کسانوں کے لیے بھی قرض معافی کا اعلان کیا جائے اور پرانی پنشن اسکیم کو لاگو کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا یہ مانسون اجلاس مہایوتی حکومت کا الوداعی اجلاس ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عوام اس حکومت سے حساب مانگیں اور انہیں حساب دینا ہی پڑے گا۔

پٹولے نے کہا کہ ایک ذمہ دار اپوزیشن ہونے کے ناطے ہم عوامی مفاد کے مسائل کو ایوان میں اٹھائیں گے۔ حکومت میں ہمت ہے تو وہ ہر معاملے پر بحث کرے اور اکثریت کے زور پر ایوان سے نہ بھاگے۔

صحافیوں نے کانگریس کے ریاستی صدر سے شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت کے اس بیان کے بارے میں پوچھا کہ ادھو ٹھاکرے کو وزیر اعلیٰ کا چہرہ قرار دیا جانا چاہیے۔ اس کے جواب میں پٹولے نے کہا کہ وہ سنجے راوت کے بیان پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق مہاوکاس اگھاڑی میں کانگریس ریاست کی سب سے بڑی پارٹی ہے لیکن بڑے بھائی یا چھوٹے بھائی کا کوئی رول نہیں ہے۔

بلکہ کانگریس کا کردار یہ ہے کہ تمام اتحادی متحد ہو جائیں اور سب سے پہلے اسمبلی انتخابات جیتیں تاکہ بی جے پی کی قیادت والی بدعنوان حکومت کی وداعی کا فیصلہ ہو سکے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading