’پریکشا پہ چرچا ‘پروگرام کے ذریعے اسکولی بچوں کے درمیان بی جے پی کا پرچار
ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے کاالزام
سرکاری پروگرام میں بی جے پی لیڈروں وعہدیداروں کی موجودگی پر سوال
ممبئی:وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو’پریکشا پہ چرچا‘ پروگرام کے تحت ملک کے اسکولی بچوں سے بات چیت کی۔ یہ پروگرام سرکاری تھا، اس کے باوجود ریاست کے کئی اسکولوں میں طلبہ کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اورعہدیدار موجود تھے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی ’پریکشا پہ چرچا‘ پروگرام کی آڑ میں اسکولی بچوں میں پارٹی کا پرچار کررہی ہے۔
اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے لونڈھے کہا کہ ’پریکشا پہ چرچا‘ پروگرام کو ملک بھر کے اسکولوں میں دکھانے کی ہدایت مودی حکومت نے کی تھی۔ دیہی علاقوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے باوجود حکومت نے حکم دیا تھا کہ پرنسپل بچوں کو یہ پروگرام دکھائیں۔ حکومت مہاراشٹر کے محکمہ تعلیم نے بھی ایسی ہی ہدایات دی تھیں۔ ریاستی کانگریس کے ترجمان نے پوچھا ہے کہ سرکاری پروگرام کے باوجود بی جے پی لیڈروں، عہدیداروں اور کارکنوں کو اسکول جانے اور طلباء کے ساتھ شرکت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اسکول کے بچوں کے پروگرام میں سیاسی رہنماؤں کی موجودگی کا کیا جواز ہے؟ کیا یہ پروگرام وزیر اعظم کی تعلیمات سننے کے لیے منعقد کیا گیا تھا یا بی جے پی کا پرچار کرنے کے لیے؟ ایسے سوالات لوگوں کے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں۔ اتل لونڈھے نے کہا کہ بی جے پی کی سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہے اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے اب بی جے پی نے اسکول کے بچوں اور اسکولوں کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ ’پریکشا پہ چرچا‘ پروگرام کے ذریعے ان بچوں کو بی جے پی کا سیاسی سبق پڑھانا کسی طور مناسب نہیں ہے۔ لونڈھے نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی لیڈروں اور پارٹی کے عہدیداروں کو پارٹی کی تشہیر اور اس کے فروغ کی سیاست کرتے ہوئے کم از کم بچوں کے مستقبل کے بارے میں تو سوچنا چاہئے۔یہ گھٹیا سیاست کسی کو کبھی قبول نہیں ہوگی۔