چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ گرنے پر نانا پٹولے کا مرکزی و ریاستی حکومتوں پر مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ
کیا مجسمہ گرنے کا ٹھیکرا افسران پر پھوڑنے والی حکومت سو رہی تھی؟، نانا پٹولے کا سوال
سندھودرگ ضلع کے مالون کے راج کوٹ علاقے میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کا محض آٹھ ماہ میں گر جانا انتہائی شرمناک ہے۔ یہ چھترپتی شیواجی مہاراج اور مہاراشٹر کی توہین کرنے والا واقعہ ہے۔ ریاستی حکومت کے وزراء اب اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لئے مرکزی حکومت پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ چھترپتی شیواجی مہاراج مہاراشٹر کے دیوتا ہیں اور ہم اپنے دیوتا کی توہین کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ اس واقعے سے ریاست بھر کے شیواجی مہاراج کو چاہنے والوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ مجسمہ گرنے کے معاملے میں نہ صرف ٹھیکیداروں و افسران بلکہ ریاست و مرکزی حکومتوں پر بھی مقدمہ درج کیا جائے۔
منگل کے روز تلک بھون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس پردیش صدر نانا پٹولے نے کہا کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی حکومت کمیشن کھانے والی حکومت بن چکی ہے۔ یہ حکومت سیمنٹ، ریت، اینٹ اور لوہے میں بھی کمیشن لیتی ہے۔ اسے کسی بات کی کوئی شرم نہیں ہے۔ شیواجی مہاراج کے شاندار مجسمے کی تعمیر کا کام تھانے کے ایک ناتجربہ کار اور اناڑی مجسمہ ساز آپٹے کو دیا گیا تھا۔ اس کام پر 2.36 کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ خوبصورتی کے لئے 5 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ دراصل چھترپتی کا مجسمہ بنانے کا کام کسی ماہر اور تجربہ کار شخص کو دیا جانا چاہئے تھا۔ سمندر میں نمکین پانی، ہوا کی رفتار کا مطالعہ کیا جانا چاہئے تھا لیکن کریڈٹ لینے کی ہوڑ اور کمیشن کھانے کی لالچ میں حکومت نے کام کی معیار پر توجہ نہیں دی اور مہاراج کی توہین کی ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے مزید کہا کہ لوک سبھا انتخابات سے پہلے چھترپتی شیواجی مہاراج کے نام پر ووٹ حاصل کرنے کی جلدی میں ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے مجسمے کی نقاب کشائی کی تھی۔ دیکھا جا رہا ہے کہ جس عمارت کا بھی افتتاح مودی نے کیا اس میں رساؤ ہو گیا ہے۔ ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح ہوا اس مندر میں رساؤ ہو گیا۔ سمردھی ہائی وے کا افتتاح ہوا اس میں دراڑیں آ گئیں، یہاں تک کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کیا گیا تو وہ بھی ٹپکنے لگی۔ آخر مودی کے افتتاح کردہ کاموں میں اس طرح کی شکایات کیوں آ رہی ہیں؟ یہ سوال لوگوں کے ذہنوں میں ہے۔ پٹولے نے کہا کہ اس وقت کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کا موازنہ چھترپتی شیواجی مہاراج سے کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیواجی مہاراج پرانے آئیڈیل تھے اور گڈکری نئے آئیڈیل ہیں۔ اقتدار میں رہنے والوں کی جانب سے اس طرح کے بیانات دے کر چھترپتی شیواجی کا مسلسل توہین کرنے کی ذہنیت بی جے پی لیڈروں کی رہی ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔