مراٹھابرادری کا مذاق اڑانے والے تاناجی ساونت کوفوری طور پروزارت سے برخاست کیاجائے:

ممبئی: مراٹھا برادری کو ریزرویشن دلانے کے لیے ریاست کی تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے طور پر کوشش کررہی ہیں لیکن شندے وفڈنویس حکومت کے وزیرصحت تاناجی ساونت نے یہ کہہ کر کہ”مراٹھوں کو ریزرویشن کی خارش ہونے لگی ہے“ مراٹھا برادری کی ریزرویشن کی کوشش کی زبردست توہین کی ہے۔ اس غیرذمہ درانہ بیان سے مراٹھا برادری کی بھی توہین ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ شندے ونائب وزیراعلیٰ فڈنویس وزیرصحت تاناجی شندے کے اس بیان پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے انہیں وزارت سے فوری طور پربرخاست کریں۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدرناناپٹولے نے کیا ہے۔

تانا جی ساونت کے بیان پرردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نانا پٹولے نے مزید کہا کہ کئی سالوں سے مراٹھا ریزرویشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ریاست کی مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے مراٹھا برادری کو ریزرویشن دلانے کی کوششیں کی جارہی

ہیں۔ یہ لڑائی حکومتی سطح پر بھی چل رہی ہے اور عدالتی سطح پر بھی۔ مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے مراٹھا برادری کو ریزرویشن دلانے کی کوشش کی۔ 2014 میں کانگریس این سی پی اتحاد کی حکومت نے مراٹھا برادری کو ریزرویشن دیا تھا، لیکن فڈنویس حکومت کی بے عملی کی وجہ سے مراٹھا ریزرویشن ختم ہو گیا۔ آج بھی جب اس مسئلہ کو حل کرنے اور مراٹھا سماج کو ریزرویشن دلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، ریاست کے ایک وزیر کا اس طرح کا بیہودہ اور غیرذمہ دارانہ بیان دینا انتہائی قابل مذمت ہے۔پٹولے نے کہا کہ تانا جی ساونت مسلسل متنازعہ بیانات دے کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتے

رہتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں میڈیا کے بارے میں ایک متنازعہ بیان دیا تھا۔ ان حضرت نے پہلے مہاراشٹر کو خریدنے کی بات کی تھی۔ تانا جی ساونت کا بیان اقتدار کے گھمنڈ کوظاہر کرتا ہے لیکن مہاراشٹر کے لوگ سمجھدار ہیں، وہ خوب جانتے ہیں کہ موصوف کو اقتدار کے نشے سے کیسے چھٹکارا دلانا ہے۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ وزیر صحت تانا جی ساونت کو مراٹھا برادری سے عوامی معافی مانگنی چاہئے اور شندے فڑنویس کو انہیں کابینہ سے نکال دینا چاہئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading