مہا بدعنوان بی جے پی مہا یوتی نے پہلی ہی بارش میں ممبئی کو ڈبو دیا: ہرش وردھن سپکال

سڑکوں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں، ریل پٹریوں، زیرزمین میٹرو اسٹیشنوں اور اسپتالوں میں پانی جمع

ممبئی کی بدحالی کی ذمہ دار میونسپل کارپوریشن اور ریاستی حکومت ہے

ممبئی: ممبئی میں پہلی ہی شدید بارش نے ریاستی حکومت اور میونسپل کارپوریشن کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سڑکیں، رہائشی سوسائٹیاں، ریل کی پٹریاں، زیرزمین میٹرو اسٹیشن اور یہاں تک کہ اسپتال بھی پانی میں ڈوبے ہوئے نظر آئے۔ جگہ جگہ پانی جمع ہونے کے باعث شہریوں کو دفتر اور دیگر ضروری مقامات پر پہنچنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورت حال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے حکمراں اتحاد بی جے پی، ایکناتھ شندے کی شیو سینا اور اجیت پوار کی این سی پی کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے ’مہا بدعنوان اتحاد‘ قرار دیا۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ممبئی کی یہ حالت اتفاقیہ نہیں بلکہ منظم کرپشن کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ممبئی میں نالوں کی صفائی کے لیے ہر سال کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، تو پھر پہلی ہی بارش میں شہر کیوں ڈوب جاتا ہے؟ آخر یہ کروڑوں روپے کہاں جاتے ہیں؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی ایم سی کے ذریعے مان سون سے قبل کے کاموں کے نام پر جو خطیر رقم مختص کی جاتی ہے، وہ ٹھیکیداروں اور حکمراں جماعتوں کی جیبوں میں چلی جاتی ہے، اور عوام کو صرف پریشانی، دقت اور پانی میں ڈوبی سڑکیں نصیب ہوتی ہیں۔

سپکال نے کہا کہ ریاستی حکومت، وزارت، بی ایم سی انتظامیہ اور ٹھیکیداروں کے درمیان قائم کرپشن کا یہ گٹھ جوڑ ممبئی کی بربادی کا اصل سبب ہے۔ ان کے بقول، اگر ایک ہی بارش میں نالوں کی صفائی کا پول کھل گیا، تو یہ صاف ظاہر ہے کہ ’صفائی‘ صرف کاغذوں پر ہوئی ہے، جبکہ اصل میں صرف ’ہاتھ کی صفائی‘ دکھائی گئی ہے اور عوام کے ٹیکس کا پیسہ لوٹا گیا ہے۔ انہوں نے طنزاً کہا کہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی-شیندے-اجیت پوار اتحاد کے امیدواروں کو عوام سے ووٹ مانگنے کے لیے کشتیوں میں سوار ہو کر گھروں تک جانا پڑے گا۔

کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے بی ایم سی نے 74,427 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا ہے، جو کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 14.19 فیصد زیادہ ہے اور بی ایم سی کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے۔ اس بجٹ میں صرف سڑکوں اور ٹریفک کے لیے 5,100 کروڑ روپے، جبکہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لیے 5,545 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 2024 میں نالہ صفائی پر 249.27 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے، اور 2025 میں نالہ صفائی اور مِٹھی ندی کی گاد نکالنے پر 395 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جن کا کام 31 ٹھیکیداروں کو سونپا گیا۔ اس کے باوجود اگر ممبئی کی نالیاں بند اور سڑکیں پانی میں ڈوبی رہیں، تو یہ بدعنوانی کی بدترین مثال ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے واضح الفاظ میں کہا کہ ممبئی کو لوٹنے والے اس بدعنوان ٹولے کو شہر کے عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے حکومت اور بی ایم سی انتظامیہ سے جواب طلب کیا کہ آخر کب تک ممبئی کی عوام کو کرپشن کی قیمت چکانی پڑے گی، اور کب ان کے ٹیکس کا پیسہ عوامی فلاح کے بجائے سیاسی اور مالی مفادات کے لیے استعمال ہوتا رہے گا؟

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading