🟠 سپکال کا کسا بی جے پی پر سخت حملہ، کسانوں کی توہین اور مراٹھی زبان پر وار ناقابلِ قبول
ممبئی: 26 جون 2025
🚜 کسانوں کو گالیاں اور سپکال کا ردعمل
مہاراشٹرا پردیش کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی کے سابق وزیر ببن راؤ لو نیکر کی کسانوں کے خلاف نازیبا زبان پر سخت تنقید کی۔
"انّ داتا کسانوں کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال ذہنی پستی کی انتہا ہے۔ اگر ببن راؤ معافی نہیں مانگتے تو انہیں بھاگنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔”
🗣️ ’ایک زبان، ایک مذہب، ایک لیڈر‘: فاشزم کا چہرہ
سپکال نے کہا کہ بی جے پی کی سوچ فاشسٹ ہے، جو ’ایک زبان، ایک مذہب، ایک لیڈر‘ کے ایجنڈے پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے ووٹ اور ٹیکس سے چلتی ہے، جبکہ بی جے پی لیڈرز عوامی امداد کو ذاتی احسان سمجھتے ہیں۔
وزیر زراعت کے ’کسان بھکاری‘ بیان پر بھی شدید مذمت کی گئی۔
🚧 شکتی پیٹھ ہائی وے: صنعتکاروں کے فائدے کے لیے؟
سپکال کے مطابق وزیراعلیٰ فڈنویس نے دہلی کے اشارے پر شکتی پیٹھ ہائی وے منصوبہ تیار کیا تاکہ مودی کے قریبی صنعتکاروں کو فائدہ دیا جا سکے۔
- منصوبے کے لیے 20,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے
- بجٹ نہ ہونے کے باوجود یہ منصوبہ ترجیح بن گیا
- سپکال کو خدشہ: خرچ 1.5 لاکھ کروڑ اور کرپشن کا خطرہ
"یہ حکومت عوام، کسانوں اور مزدوروں کے لیے نہیں، صرف سرمایہ داروں کے لیے کام کر رہی ہے۔”
🗺️ مراٹھی شناخت، ہندی کی مسلطی اور عوامی تحریکیں
سپکال نے ابتدائی جماعتوں میں ہندی کو لازمی کرنے کی کوششوں پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ مہاراشٹر کی تہذیب اور زبان پر حملہ ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس تمام احتجاجی مارچز میں شرکت کرے گی، کیونکہ یہ صرف پارٹی کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست کی شناخت کا سوال ہے۔
"اگر حکومت نے صنعتکاروں کے فائدے اور مراٹھی عوام کے نقصان پر مبنی پالیسیاں جاری رکھیں، تو عوامی غصے سے بچ نہیں پائے گی۔”
📡 تازہ سیاسی تجزیوں اور ریاستی خبروں کے لیے ہمارے ساتھ جڑے
شکتی پیٹھ ہائی وے مودی کے دوست صنعتکاروں کے لیے، مراٹھی زبان پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا
ممبئی: 26 جون 2025
مہاراشٹرا پردیش کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی کے سابق وزیر ببن راؤ لو نیکر کی جانب سے کسانوں کو گالیاں دینے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ’انّ داتا‘کسانوں کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال ذہنی پستی کی انتہا ہے، جو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لو نیکر نے کسانوں سے معافی نہیں مانگی، تو انہیں بھاگنے کے لیے بھی جگہ نہیں ملے گی۔
تِلک بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ بی جے پی کی ذہنیت بار بار سامنے آ رہی ہے۔’ایک زبان، ایک مذہب، ایک لیڈر‘کا جو ایجنڈا ہے، وہی اس کی فاشسٹ سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا تکبر اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود کو ہی ملک کا سب کچھ سمجھتی ہیں۔ حالانکہ حکومت عوام کے ووٹ سے بنتی ہے اور عوام کے ٹیکس سے چلتی ہے۔ کسانوں کی امداد کو یہ لیڈر کوئی احسان سمجھتے ہیں، جبکہ یہ عوام کا حق ہے۔ بی جے پی کے لیڈروں کو یہ بھرم ہے کہ سب کچھ صرف نریندر مودی ہی دیتے ہیں۔ اس سے پہلے ریاست کے وزیر زراعت بھی کسانوں کو ’بھکاری‘ کہہ چکے ہیں، جو انتہائی قابل مذمت بات ہے۔
سپکال نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے دہلی کے حکمرانوں کے اشارے پر ’شکتی پیٹھ مہامارگ‘ (ہائی وے) منصوبہ تیار کیا ہے، جو کہ چنندہ صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کی سازش ہے۔ ان کے مطابق وسطی بھارت سے گووا بندرگاہ تک صنعتکاروں کو اپنا خام مال بھیجنے کے لیے خصوصی راستے کی ضرورت تھی، اسی لیے اس ’ریڈ کارپٹ‘ منصوبے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب حکومت کے پاس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے پیسے نہیں، ٹھیکیداروں کو ادائیگی کے لیے فنڈز نہیں، خواتین کو وعدہ شدہ 2100 روپے دینے کے لیے خزانہ خالی ہے، کسانوں کی قرض معافی کے لیے بجٹ نہیں ہے تو پھر ’شکتی پیٹھ مہامارگ‘ کے لیے 20,000 کروڑ روپے کا بندوبست کہاں سے آ رہا ہے؟ انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اس منصوبے کا خرچ 1.5 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے اور اس میں بڑے پیمانے پر گھپلے اور کمیشن خوری کا سلسلہ چلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت عوام، کسانوں، مزدوروں اور بے روزگاروں کے لیے نہیں، بلکہ کچھ گنے چنے صنعتکاروں کے فائدے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ دراصل مہاراشٹرا کو معاشی طور پر تباہ کرنے کی شروعات ہے۔
ابتدائی جماعتوں سے ہندی زبان کو لازمی کرنے کی کوششوں کے خلاف جاری احتجاج پر بھی ہرش وردھن سپکال نے سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہندی مسلط کرنے‘کے خلاف کئی تنظیمیں سرگرم ہیں اور مزید تحریکیں بھی تجویز کی جا رہی ہیں۔ سپکال نے واضح کیا کہ جہاں بھی مراٹھی زبان، مہاراشٹر دھرم اور ریاست کی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کے لیے مارچ نکالے جائیں گے، کانگریس ان میں بھرپور شرکت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی پارٹی کا ذاتی ایجنڈا نہیں، بلکہ مہاراشٹر کی شناخت اور خودداری کا سوال ہے۔ سپکال نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اس نے صنعتکاروں کے فائدے اور مراٹھی عوام کے نقصان پر مبنی پالیسیوں کو جاری رکھا، تو ریاست گیر احتجاج ناگزیر ہوگا، اور عوامی غصہ حکمرانوں کو بھاگنے بھی نہ دے گا۔