مودی حکومت کے خلاف کانگریس کے ریاست گیر احتجاج کو عوام کی زبردست حمایت

  • ملک کی سرحدکا تحفظ کرنے میں مودی حکومت مکمل طور پرناکام ہے: بالاصاحب تھورات

  • وزیراعظم اپنے متنازعہ بیان کی وضاحت کریں: پرتھوی راج چوہان

  • مودی حکومت کے خلاف کانگریس کے ریاست گیر احتجاج کو عوام کی زبردست حمایت

ممبئی:سرحد پرچین کی جانب سے مسلسل شرانگیزی کے باوجودمرکز کی مودی حکومت جواب دینے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے اور چین کے سامنے جھک گئی ہے۔ حکومت کی اس نکمے پن کا جواب طلب کرنے کے لیے نیز 20شہیدجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کانگریس نے آج ریاست گیر احتجاج کیا ، جسے عوام کی زبردست حمایت حاصل ہوئی۔ سرحد پر جو کچھ ہورہا ہے اس سے ہماری خارجہ پالیسی کا غلط ہونا واضح ہوتا ہے۔

آج تک چین کو ہم نے روکا ہوا تھامگر آج وہ صورت حال نہیں رہ گئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سرحد کی حفاظت کرنے میں مودی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ یہ سخت تنقیدآج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدرووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کی ہے۔

بالاصاحب تھورات نے آج اپنے ساتھیوں کے ساتھ ممبئی میں منترالیہ کے قریب مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے پرامن احتجاج کیا۔ ریاست گیر احتجاج کے ایک حصے کے طور پر’شہیدوں کو سلام‘ کا دن منایا گیا۔ اس موقع پر تھورات کے ساتھ ممبئی کانگریس کے صدر ایکناتھ گائیکواڈ،خواتین اور بچوں کے بہبود کی وزیر یشومتی ٹھاکر ، اسکولی کے وزیر تعلیم ورشا گائیکواڈ ، ممبئی کے نگراںوزیر اسلم شیخ ، ایم ایل اے بھائی جگتاپ ، ایم ایل اے امین پٹیل ، ایم ایل اے ذیشان صدیقی ، چرنجیت سنگھ سپرا ، مدھو چوان اور ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری سچن ساونت موجود تھے۔اس احتجاج کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر #SpeakUpforOurJawans نامی آن لائن مہم بھی چلائی گئی۔

دوپہر میں گاندھی بھون میں وزیرمحصول بالاصاحب تھورات اور سابق وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر چوہان نے چین کی دراندازی پر مودی سرکار پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ چین کی لداخ میں دراندازی تشویشناک ہے۔ ملک کی مفادکے پیشِ نظر ملک کے تحفظ کے لیے حکومت جوبھی فیصلہ کرے گی کانگریس کی اسے حمایت ہوگی، لیک وزیراعظم مودی کا یہ کہنا کہ چین نے بھارت کی سرزمین پر داراندازی کی ہی نہیں، چین کوفائدہ پہونچایا ہے اورعالمی سطح پر اس کا بہت اثر ہوا ہے۔ چین نے مودی کے بیان کا بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا بھر میں یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے دراندازی کی ہی نہیں ہے۔ مودی کا یہ بیان کانگریس کو منظور نہیں ہے۔ وزیراعظم کے دفتر نے مودی کے اس بیان کی مدافعت کرنے کی کوشش ہے جو کسی طور کافی نہیں ہے۔حکومت وزیراعظم کے اس بیان کی وضاحت کرے۔

اس قدر حساس اوراہم موضوع پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کی جانب سے انتہائی ذمہ داری وسنجیدگی کی توقع کی جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ حکومت سے جواب طلب کرنا اپوزیشن کا کام ہے اور ان سوالوں کے جواب دینا حکومت کی دستوری ذمہ داری ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ چھ سالوں میں 19 مرتبہ ملاقات کئے جس کا بھارت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ اس موقع پر چوہان نے مودی حکومت پر سوالات کی بوچھار کردی۔ اپریل و مئی 2020 میں چین نے کتنی بار ہندوستان پر حملہ کیا؟ وزیر اعظم نے آل پارٹی اجلاس میں ایسا متنازعہ بیان کیوں دیا؟ کیا وزیر اعظم کے بیان نے مذاکرات میں ہندوستان کے کردار کو کمزور کیا؟ سرحدی صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے حکومت ہند نے کیا اقدامات کئے ہیں؟ چوہان نے کہا کہ مودی سرکار کو ان سوالوں کا جواب دینا چاہئے۔چوہان نے مزیدکہا کہ چین نے سرحدی علاقوں میں اپنی شرارت بند نہیں کیے ہیں۔

سیٹلائٹ کے ذریعے کچھ باتیں واضح ہوئی ہیں اور گالوان علاقے سے چین واپس نہیں گیا ہے۔ اس کے برعکس اس علاقے میں چینی فوجیوں کی چوکیاں ہیں اور فوجیوں کی گاڑیاں آجارہی ہیں۔ تقریباً دس ہزاراس علاقے میں تعینات ہیں اور ان کے پس بڑے پیمانے پر اسلحہ جات بھی ہیں۔ اس کے علاوہ چین نے گالوان ندی کے کنارے تعمیری کام بھی شروع کردیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading