۳ستمبرسے ریاست کے تمام گاؤں میں کانگریس کی جن سنواد یاترا

ہم ’جن سنواد‘یاترا کے ذریعے مودی وای ڈی اے حکومت کو بے نقاب کریں گے: ناناپٹولے

جب ریاست کی عوام خشک سالی سے جوجھ رہی ہے تو ریاستی حکومت کہاں ہے؟ تھورات

جب تک 50 فیصد کی حد نہیں ہٹائی جاتی، ریزرویشن کا مسئلہ حل نہیں ہوگا: اشوک چوہان

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کی ’جن سنواد‘ یاترا کے لوگو کا اجراء

ممبئی:مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی 3 ستمبر سے ریاست میں جن سنواد یاترا شروع کر رہی ہے۔ یہ یاترا تمام گاؤں، قصبوں، تعلقہ، شہروں سے گزرے گی۔ یہ اطلاع کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے دی۔انہوں نے کہا ہے کہ مرکز کی مودی حکومت اور ریاست کی ای ڈی اے حکومت یعنی شندے دیویندر اجیت (EDA) عوام کو لوٹ رہی ہیں۔ کسانوں، طلباء، تاجروں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ بی جے پی عوام کے لیے نہیں بلکہ اپنے اقتدار کے لیے کام کر رہی ہے۔کانگریس پارٹی جن سنواد یاترا کے ذریعے مودی حکومت اور ریاستی حکومت کو بے نقاب کرے گی۔

تلک بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ مغربی مہاراشٹر میں سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، شمالی مہاراشٹر میں لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات، مراٹھواڑہ میں سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان، مغربی ودربھ میں اپوزیشن لیڈر وجے ودیٹی واریاترا کی قیادت کریں گے جبکہ مشرقی مہاراشٹر میں میں خود اس کی قیادت کرونگا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی طاقت کے زور پر تمام حکومتی نظام میں مداخلت کر رہی ہے۔ آئین کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لیے ای ڈی، سی بی آئی جیسی تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ چونکہ بی جے پی حکومت عوام کے مسائل پر توجہ نہیں دیتی ہے اس لیے اس یاترا کے ذریعے ہمارے لیڈر عوام کے دکھوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

فون ٹیپنگ معاملے پر بات کرتے ہوئے پٹولے نے کہا کہ بھلے ہی بی جے پی نے اقتدار کے زور پر اس فائل کو بند کر دیا ہے، لیکن وہ ہمیشہ اقتدار میں برقرارنہیں رہے گی۔ کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد اس فائل کو دوبارہ کھولا جائے گا۔ پٹولے نے کہا کہ مجھ سمیت بی جے پی لیڈروں کے فون آئی پی ایس افسر رشمی شکلا نے ٹیپ کیے تھے۔ پونے پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ شکلا کو کلین چٹ دینے کی کوشش کی گئی لیکن عدالت نے کہا کہ مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔جس کے بعد شندے-فڈنویس حکومت نے کیس سی بی آئی کو سونپ دیا اور سی بی آئی نے کیس بند کر دیا۔

اس موقع پر بالاصاحب تھورات نے کہا کہ اگست مہینے میں کم بارش کی وجہ سے خریف کی فصل برباد ہو گئی ہے۔ پینے کے پانی اور چارے کی قلت کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔پانی کے ٹینکروں کی مانگ کی جارہی ہے،ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مہاراشٹر حکومت کہاں ہے؟ آخر وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ خشک سالی پر توجہ کیوء نہیں دے رہے ہیں؟ تھورات نے مزید کہا کہ پیاز کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے مرکزی حکومت نے نافیڈ کے ذریعے 2410 روپے فی کوئنٹل کے حساب سے 2 لاکھ ٹن پیاز خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن ناسک ضلع میں ہی 15/ لاکھ ٹن سے زیادہ پیاز کی پیداوار ہوتی ہے۔ پیاز خریدنے کے لیے نافیڈ نے انتہائی جابرانہ شرائط رکھی ہیں۔ پیاز کے سائز، رنگ اورمہک کی بھی جانچاجائے گا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بی جے پی حکومت کسانوں کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔

سابق وزیر اعلی اشوک چوہان نے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ دو سالوں سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ ریاست کا ماحول حکمراں جماعت کے خلاف ہے اور شکست کے خوف سے وہ انتخابات نہیں کرارہی ہے۔ حکومت مختلف وجوہات بتا کر انتخابات ملتوی کر رہی ہے۔ چوہان نے کہا کہ حکومت کے پاس او بی سی، مراٹھا ریزرویشن سے متعلق کوئی پالیسی نہیں ہے۔ جب تک مرکزی حکومت 50 فیصد کی حد کو ختم نہیں کرتی، ریزرویشن کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ریزرویشن کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مراٹھا کمیونٹی کے طلباء کو سرکاری بھرتیوں میں اس کا فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ حکومت صرف میٹنگیں کرنے کا ڈرامہ کررہی ہے۔

اشوک چوہان نے کہا کہ ’انڈیا‘ اتحاد کی میٹنگ 31 اگست اور یکم ستمبر کو ممبئی میں ہو رہی ہے۔ 26 پارٹیوں کے علاوہ دیگر پارٹیاں بھی اس اتحاد میں شامل ہو سکتی ہیں۔ 31 تاریخ کو اجلاس کے حوالے سے غیر رسمی بات چیت اور یکم کو تفصیلی بات چیت ہوگی۔ اس میٹنگ کے بعد تلک بھون میں کانگریس کے سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے لیے ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔

اس موقع پر جن سنواد یاترا کے لوگو کی نقاب کشائی کی گئی۔ اس پریس کانفرنس میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان، اسمبلی میں کانگریس پارٹی کے لیڈر بالا صاحب تھورات، سی ڈبلیو سی کے رکن اور سابق وزیر چندرکانت ہنڈورے، سابق وزیر اور ریاستی ورکنگ صدر نسیم خان، ریاستی مہیلا کانگریس کی صدر سندھیا تائی سوالاکھے، چیف ترجمان اتل لونڈھے، ریاستی جنرل سکریٹری پرمود مورے، دیانند پوار، راجیش شرما، ایم ایل اے سنگرام تھوپٹے اور سابق ایم ایل اے امر راجورکر، ریاستی سکریٹری ڈاکٹر سید ذیشان احمد اور دیگر موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading