یو اے پی اے کے تحت پی ایف آئی جیسی تنظیمو ں پر پابندی لگانے کا اختیار مرکز کے پا س ہے : کانگریس
ممبئی:دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے کے الزام میں این آئی اے وا ی ڈی نے پونے سمیت مہاراشٹرمیں کئی مقامات پرچھاپہ ماری کرتے ہوئے پاپولرفرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے وابستہ کچھ لوگوں کو گرفتار کیا۔ اس کارروائی کے دوران پونے میں کچھ لوگوں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ اس نعرے بازی کی تفتیش کرتے ہوئے اس طرح کی حرکت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ اسی کے ساتھ اگر کوئی تنظیم مذہبی شدت پسندی پیدا کررہی ہے تو اس پرپابندی عائد کی جانی چاہئے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔
اس ضمن میں میڈیا کے لوگوں کے ذریعے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدرنے کہا کہ کانگریس پارٹی کا موقف ہے کہ ریاست میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اوریہاں امن وامان ہونا چاہیے۔ مہاراشٹر میں ایسے واقعات کی ذرا بھی گنجائش نہیں ہے۔ناناپٹولے نے کہا کہ اس بات کی تفتیش ہونی چاہئے کہ مہاراشٹر میں ایسے رجحانات کو کہاں سے تقویت مل رہی ہے نیز اس طرح کی ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے والے لوگ کون ہیں؟ اسی کے ساتھ اس بات کی بھی تفتیش کی جانی چاہئے کہ کیا اس طرح کی حرکتوں سے
قصداً ہندو مسلم تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش تو نہیں کی جارہی ہے؟ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانا یقینی طور پر ملک مخالف ہے اور اس طرح کی حرکت قطعی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جو لوگ اس نعرے بازی میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ اگر پی ایف آئی ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اس جیسی دیگر تنظیموں پر یو اے پی اے قانون کے تحت پابندی لگانے کا اختیار مرکز کے پاس ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس طرح کی اطلاعات مرکز کے پاس تھیں تو مرکز نے ان جیسی تنظیموں پر پابندی کیوں نہیں عائد کی؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ہے جس کی پردہ پوشی کی جارہی ہے۔ ناناپٹولے نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے اس سے قبل بھی پی ایف آئی پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا لیکن مرکز نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مرکز کی بی جے پی حکومت اپنے سیاسی فائدے کے لیے اس تنظیم پر پابندی لگانے سے آنا کانی کرتی رہی؟
۔پٹولے نے کہا کہ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں آٹھ سال سے بی جے پی کی حکومت ہے، کیا یہ حکومت پی ایف آئی کی سرگرمیوں سے واقف نہیں تھی؟ کیا مرکزی حکومت اب تک اپنی آنکھیں بندکر رکھی تھیں؟ناناپٹولے نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری گوکہ ریاستی حکومت کی ہے، لیکن ای ڈی حکومت کے دورمیں ریاست میں پولیس کا لوگوں میں کوئی خوف ہی نہیں رہ گیا ہے۔حکمراں پارٹی کے ممبرانِ اسمبلی فائرنگ کرتے ہیں، کیا انہیں ریاست میں فسادات برپاکرنے ہیں؟
ناناپٹولے نے کہا کہ جب سے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں بھارت جوڑو پدایاترا شروع ہوئی ہے، ملک کا ماحول تبدیل ہوگیا ہے۔راہل گاندھی کی پدیاترا کی بی جے پی وآرایس ایس کو بھی نوٹس لینا پڑا ہے۔وہ سرسنگھ چالک موہن بھاگوت جو مسجد ومدرسے کے خلاف تھے، انہیں مسجد جانا پڑا اور اس کے امام عمیرالیاسی سے ملاقات کرنی پڑی۔ ہم ان کے اس کردار کا خیر مقدم کرتے ہیں۔کل تک راہل گاندھی پر تنقید کرنے والے بابارام دیو بھی آج بھارت جوڑو
یاترا کا نوٹس لیتے ہوئے راہل گاندھی کے موقف کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ تبدیلی بھارت جوڑو پدایاترا کی وجہ سے آرہی ہے۔ راہل گاندھی ہاتھ میں ترنگا لے کر ملک کو متحد کرنے میں مصروف ہیں۔ ہراس شخص کو جو اس بات میں یقین رکھتا ہے کہ ملک کے تمام مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر ملک کو متحد کیا جاسکتا ہے تو اس کو راہل گاندھی کے موقف اوربھارت جوڑو
پدیاترا کاخیر مقدم کرنا چاہئے اور ہمیں بھی ایسے لوگوں کا استقبال کرنا چاہئے۔ راہل گاندھی کا موقف ملک کے مفاد کا ہے اور کوئی بھی ملک سے بڑا نہیں ہے۔ناناپٹولے نے کہا کہ مہاراشٹر میں 7 نومبر کو بھارت جوڑو پدایاترا آ رہی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جس ضلع سے یہ یاترا گزرے گی وہاں کے کانگریس کارکنان اور عوام بڑی تعداد میں اس میں حصہ لیں گے اور راہل گاندھی کے ملک کو جوڑنے کے اس عظیم کام میں حصہ لیں گے۔