کسانوں اور مزدوروں کی جدوجہد کو کانگریس، این سی پی، شیوسینا، سماج وادی پارٹی وبائیں بازو کی پارٹیوں کی حمایت

ممبئی:مرکز کی بی جے پی حکومت نے کسانوں پرظلم کی انتہائی کردی ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے بی جے پی نے بڑے بڑے وعدے کئے لیکن اقتدار میں آتے ہی اس نے کسانوں کو جڑوں سے اکھاڑ دیا۔ تین سیاہ زرعی قوانین متعارف کروا کر کسانوں کا تباہ کرنے کی سازش کی گئی لیکن کسانوں نے سال بھر تک احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو ان قوانین کو واپس لینے پر مجبور کردیا۔لیکن چونکہ اس حکومت پر کسانوں کو اعتماد نہیں ہے اس لئے جب تک یہ زرعی قواین پارلیمنٹ سے منسوخ نہیں ہوجاتے اور کسانوں کی پیداوار کے لئے ایم ایس پی کا فل پروف قانون نہیں بنایاجاتا اس وقت تک کسانوں کو حقیقی انصاف نہیں ملے گا۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔سنیوکت کسان مزدو مورچہ مہاراشٹر نے 27اور28نومبر کو احتجاج کے دوران شہید ہونے والے کسانوں کی یاد میں کلش یاترا اور کسان مہاپنچایت کا انعقاد کیا ہے۔ اس ضمن میں ہونے والی پریس کانفرنس میں پٹولے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر ناناپٹولے نے مزید کہا کہ کسانوں کوان سیاہ قوانین کو رد کرانے کی جنگ میں بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ یہ احتجاج سال بھر تک جاری رہاجس میں 700 کسانوں کو اپنے جانوں کی قربانی دینی پڑی۔ مودی سرکار نے کسانوں پربے انتہا ظلم ڈھائے۔ لال قلعہ کے معاملے کی آڑ میں ان کے مقدمات درج کئے گئے جبکہ لکھیم پورکھیری میں مودی حکومت میں وزیر داخلہ کے بیٹے نے کسانوں اور صحافی کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر مارڈالا۔ اس وزیر کو برخاست کردیا جانا چاہئے تھا لیکن ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔ملک اور جمہوریت کو بچانے کی جنگ جاری ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کہا کہ کسانوں نے نریندر مودی کوپیچھے ہٹنے پر مجبور کرتے ہوئے انہیں تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے پر مجبورکردیا لیکن اس کے لئے 700 کسانوں کو اپنی جانیں گنوائی پڑیں۔جب بی جے پی کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ اتر پردیش اور پنجاب میں آنے والے انتخابات میں اس کے ہارنے کا امکان ہے تو مودی کو اس قانون کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ لیکن زرعی قوانین کی واپسی کے اس اعلان سے کسانوں کے مطالبات ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں۔ حکومت کو ان کی پیداوار کے لئے ایم ایس پی قانون، سستی بجلی اور احتجاج کے دوران مرنے والے فی کس کسانوں کے ورثا کو ایک کروڑ روپے کی ادائیگی کے مطالبات کوبھی تسلیم کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کسانوں کی پارٹی نہیں ہے بلکہ یہ کسانوں کو لوٹنے والی پارٹی ہے۔

دو روزہ پروگرام کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے پرکاش ریڈی نے کہا کہ لکھیم پور کھیری میں شہید ہونے والے کسانوں کا استھی کلش مہاراشٹر لایا جا رہا ہے۔27 نومبرکو ریلی کی شکل میں اسے ممبئی کے شیواجی پارک، چیتیہ بھومی، باباگینواسمارک، ہتاتماچوک جیسے مقامات پر لے جایا جائے گا اور مہاتماگاندھی کے مجسمے کے پاس اس ریلی کا اختتام ہوگا۔ 28نومبر کو سنیوکت کسان مورچہ کی جانب سے ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا جائے گا جس میں سینوکت کسان مورچہ کے لیڈر راکیش ٹیکت، ڈاکٹر درشن پال، ہنان ملا خطاب کریں گے۔ اس موقع پر کانگریس، این سی پی، شیوسینا ودیگر سیاسی پارٹیاں وکسان ومزدور بھی بڑی تعداد میں شریک ہونگے۔اس پریس کانفرنس میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، این سی پی لیڈر اور وزیر نواب ملک، بائیں بازو کی پارٹی پرکاش ریڈی، کانگریس کے جنرل سکریٹری اور چیف ترجمان اتل لونڈھے، سی پی آئی، سی پی آئی(ایم)، جنتا دل، سماج وادی پارٹی کے نمائندوں اور دیگر نے شرکت کی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔